حکومتی کاموں پر نظر رکھنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت

قدیر رند، کوئٹہ بلوچستان

بلوچستان میں جدیدٹیکنالوجی سے خاطر خواہ استفادہ نہ کرنے اور قانون میں موجود خامیوں اور کمزوریوں کے باعث شہریوں کو حکومتی امور، ترقیاتی منصوبوں اور ان پر پیشرفت سے متعلق بروقت آگاہی نہیں مل رہی ، صوبائی محکمے احتساب کے خوف سے اپنا نظام جدید خطوط پر استوار کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں ، ماہرین کے مطابق حکومت کو اپنی کارکردگی اور مفاد عامہ کے منصوبوں کو عوام کے سامنے پیش کرنا چاہئے جس کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے ۔

بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈمنیجمنٹ سائنسزکے فیکلٹی کو آرڈینیٹر ڈاکٹر ندیم کے مطابق بلوچستان میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی موجودہ صورتحال بہت تشویشناک ہے، حکومت کی جانب سے دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں مگر محکموں میں شہریوں کیلئے ون ونڈو آپریشن کی سہولت بھی دستیاب نہیں ،بنیادی فارمز جو کہیں جمع کرائے جا سکیں وہ ان ویب سائٹس پر نہیں ملتے،اگر یہ چیزیں آن لائن دستیاب ہوں تو ایک بنیادی مقصد پورا ہوگا،جہاں تک شفافیت کی بات ہے تویہ بہت لمبا سفر ہے اگر حکومت کسی اور ملک کا ماڈل فالو کرے تو اس سے بھی مدد لی جا سکتی ہے، وسط ایشیائی ممالک نے اس سلسلے میں کافی ترقی کی ہے،وہاں ٹریفک چالان سے لیکر شہریوں کی تمام بنیادی معلومات سب ایک دوسرے سے منسلک ہیں ،ہمارے ہاں پالیسی میں تسلسل کا فقدان ہے، بلوچستان میں طویل عرصے بعد مائننگ پالیسی بنی ہے جسے بہت پہلے بننا چاہئے تھا،تاہم تھوڑا بہت کام ہو رہا ہے، بلوچستان پولیس جدید سی آئی ٹی بی ماڈل کے حصول کیلئے پنجاب سے رابطے میں ہے یہ ایک اچھی پیشرفت ہو سکتی ہے،حکومت آئی ٹی کے مختلف منصبوں کیلئے ہماری یونیورسٹی سے مدد لینے کیلئے رابطہ کرتی ہے اور ہم اس پر کام کر کے انہیں رسپانس بھی دیتے ہیں مگرآگے ہ میں اس پر زیادہ مثبت کام نظر نہیں آتا،شہریوں کو سروسز فراہم کرنیوالے محکموں کو اب ڈیجیٹلائز کیا جانا ضروری ہے تاکہ شہری مختلف محکموں کے چکر کاٹنے سے بچ سکیں اور انہیں آن لائن سہولیات ملیں۔

آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ حکومت بلوچستان کے ڈائریکٹر ٹریننگ جواد احمد نے بتایا کہ موجودہ دور میں حکومتیں انفارمیشن ٹیکنالوجی پر انحصار کر رہی ہیں کیونکہ پرانے طریقہ کار سے اب کوئی فیصلہ سازی یا ترقی نہیں کی جا سکتی، آئی ٹی اب ایک بنیادی ضرورت ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ذاتی دلچسپی ہے کہ تمام محکمواں میں کمپیوٹرائزڈ نظام لایا جائے،خاص طور پر حکومت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے محکمہ پی اینڈ ڈی میں یہ نظام نا گزیر ہے تاکہ تمام ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت آ سکے،انکے مطابق بلوچستان میں راءٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ تاحال نافذ نہیں ہو سکاتاہم حکومت نے اپنا ایک ویب پورٹل بنا رکھا ہے جس پر تما م محکموں کی بنیادی اور اہم معلومات دستیاب ہیں مگر محکموں کے اندر جو تفصیلات ہیں انہیں شیئر کرنے کا سلسلہ ابھی تک شروع نہیں ہو سکا اب اس سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب اور کے پی کے میں حکومت کی جانب سے اپنے ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات متواتر اپنی ویب ساءٹس پر اپ لوڈ کی جاتی ہیں تاہم بلوچستان میں یہ سلسلہ ابھی تک شروع نہیں ہو سکا،بد قسمتی سے ہمارے محکمے آئی ٹی کو اپنانے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں ظاہر سی بات ہے جب تمام معلومات عوام کے سامنے آئیں گی تومحکمہ بھی(accountable) ہو جائیگا ،جس کا خوف محکموں میں بہرحال موجود ہے،مگر وزیر اعلیٰ بلوچستان یہ چاہتے ہیں کہ تمام محکموں کا نظام کمپیوٹرائزڈ ہو تاکہ شفافیت آسکے ۔

اس سلسلے میں سینئر قانون دان راحب بلیدی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ حکومتی امور اور ترقیاتی منصوبوں کی تما م تفصیلات (public document)عوامی دستاویز ہوتی ہیں ، کوئی بھی شہری یہ معلومات ایک سادہ درخواست کے ذریعے حاصل کر سکتا ہے اور محکمے اس کے پابند بھی ہیں ،اگر وہ ایسا نہ کریں تو اسکے خلاف عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے،راءٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے علاوہ قانون شہادت کے تحت بھی شہریوں کو معلومات کے حصول کا حق حاصل ہے ۔ اس سلسلے میں حکومت کو ازخود تمام منصوبوں کی تفصیلات پرنٹ ، الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا یا آفیشل ویب ساءٹس کے ذریعے عوام کیلئے جاری کرنی چاہئیں ۔

سٹیزن رائٹس کیلئے کام کرنیوالے سوشل ایکٹوسٹ بہرام لہڑی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کمزور شکل میں نافذ ہے جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اس میں کئی اصلاحات کی گئی ہیں جہاں حکومتی اقدامات اور مفاد عامہ کے منصوبوں کو گاہے بگاہے عوام کی معلومات کیلئے ویب سائٹس پر اپ لوڈ اور دفاتر میں آویزاں کیا جاتا ہے، ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ قانون کا ہے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ 2005کے ایکٹ میں ترامیم اور اصلاحات لائی جائیں جس طرح خیبر پختونخوا اور پنجاب میں 2013 میں معلومات تک رسائی کا ایکٹ لایا گیا اور2017 میں وفاقی قانون بنا اسی طرز پر بلوچستان میں بھی قانون سازی ہو ،2005کا ایکٹ جو بلوچستان میں فریڈم آف انفارمیشن کے نام سے نافذ ہے اس میں معلومات تک رسائی کا جو طریقہ کار بتایا گیا ہے اس کے خاطر خواہ نتائج برآمدنہیں ہو رہے اور کسی کو اس سلسلے میں ذمہ دار بھی نہیں بنایا گیا،اس قانون میں مسئلہ یہ ہے کہ آپ کومتعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو درخواست دینا ہوگی اگر محکمہ معلومات فراہم نہ بھی کرے تو عدالت سے رجوع کرنے پر قانون میں سزاو جزا کا تصور موجود نہیں ، محکمے کسی مخصوص مدت میں معلومات فراہم کرنے کے پابند بھی نہیں ہیں ، دوسری اہم بات یہ ہے کہ عوا م کو آگاہی دینا ضرور ی ہے، جس طرح وزیر اعظم نے سٹیزن ویب پورٹل بنایا ہے اور اس پر براہ راست شکایات موصول ہوتی ہیں ،حکومت بلوچستان کوبھی چاہئے کہ اس پر کام کرے،عوام میڈیا اور سول سوساءٹی کو وقتاًفوقتاًبریفنگ دے تاکہ عوام کو آگاہی حاصل ہو سکے کہ انکے فنڈز کہاں اور کیسے استعمال ہو رہے ہیں ۔

حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی اس حوالے سے کہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کا وژن ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کے بغیر اہداف کا حصول ممکن نہیں ، ہم کوءٹہ میں 500 ملین روپے کی لاگت سے آئی ٹی پارک اور ڈیٹا سنٹر بنا رہے ہیں ،اسکے علاوہ100 پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کو (vertical education model) پر منتقل کیا جا رہا ہے،سی ایم سیکریٹریٹ اور سول سیکریٹریٹ میں فائل ٹریکنگ سسٹم لایا جا رہا ہے،پہلی مرتبہ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کیلئے۱۔۸ بلین روپے مختص کئے گئے ہیں تاکہ جدید ٹیکنالوجی کو اپنایا جاسکے،وزیر اعلیٰ شکایت سیل کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کی شکایات براہ راست موصول ہوں ،وزیر اعلیٰ سوشل میڈیا پر بھی عوام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں ،اگر ہم نے کارکردگی دکھانی ہے اور آگے بڑھنا ہے تو ٹیکنالوجی کے تمام ذرائع کو استعمال کرنا ہوگا اس کے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکتے ۔

رکن بلوچستان اسمبلی قادر علی نائل نے سوشل میڈیا کو حکومتی کارکردگی پر نظر رکھنے کا بہترین ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں ای گورننس کا تصور فعال ہے ہر حکومت کی خواہش ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو اپناتے ہوئے دنیا تک اپنی کارکردگی پہنچائے،جہاں تک حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھنے اور ٹیکنالوجی کی بات ہے تو اس بات کا انحصار معاشرے پرہے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں اس میں تعلیم کی شرح کتنی ہے، ٹیکنالوجی کی سہولت کتنی آبادی کو حاصل ہے،دور دراز کے علاقوں میں تو یہ سہولت ہی میسر نہیں تاہم شہروں میں لوگ اس سہولت سے استفادہ کرتے ہیں ،عوامی نمائندوں کا بھی اخلاقی فرض بنتا ہے کہ وہ خود کو عوام کے سامنے احتساب کیلئے پیش کریں ،یہاں قبائلی روایات کے تحت جرگوں ،کارنر میٹنگز اور جلسوں میں نمائندے اپنی کارکردگی پیش کرتے ہیں ،میری نظر میں دور جدید میں ٹیکنالوجی خصوصاًسوشل میڈیا ایک ایسابہترین ذریعہ ہے جس سے لوگوں میں شعورآ گیا ہے اور ان کی عوامی نمائندوں تک رسائی ممکن ہو گئی ہے، سوشل میڈیا کے ذریعے ہم اپنی کارکردگی لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں اور اسی کے ذریعے عوام بھی اپنے مسائل اجاگر کرتے ہیں جس کا نوٹس لیا جاتا ہے اور ان کی داد رسی بھی کی جاتی ہے،دوسری جانب ہم اپنے ناقدین کی رائے کو بھی اہمیت دیتے ہیں اور عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،سوشل میڈیا حکومت کو الرٹ کرنے کا ذریعہ ہے تاکہ وہ کارکردگی دکھائے،جس طرح پی ایس ڈی پی اور بجٹ سوشل میڈیا اور اخبارات میں شاءع ہوتا ہے اور معاشرے کا با شعور طبقہ اس کا مطالعہ کرنے کے بعد اس پر نظر بھی رکھتا ہے کہ حکومت نے جس شعبے کیلئے فنڈز رکھے ہیں آیا اس پر کام بھی ہوا ہے یا نہیں ،ایک طرح سے یہ بھی حکومت کا احتساب ہے ۔

ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ بات اخذ کی جا سکتی ہے ٹیکنالوجی حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانے اور کامون میں شفافیت لانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ماہرین کی رائے کے مطابق رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ میں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اصلاحات ضروری ہیں تاکہ شہریوں کو اپنی حکومت پر نظر رکھنے میں مدد ملے اور حکومت بھی ایسے اقدامات کرے جن کے ذریعے شہریوں کو ان کا بنیادی حق مل سکے ۔ پنجاب اورخیبر پختونخوا میں نافذ قوانین سے استفادہ کیا جائے اور محکموں میں کمپیوٹرائزڈ نظام لایا جائے،تمام معلومات ویب سائٹس پر فراہم کی جائیں ۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی ہی ترقی کا زینہ ہے اپنے صوبے اور عوام کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے حکومت ، سول سوساءٹی سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو سوچنا ہوگا ۔

گڈ گورننس، اچھی حکمرانی میں شھریوں کا کردار

جاوید لانگاھ، کوئٹہ بلوچستان۔

کسی بھی ملک کے شہری اچھی حکمرانی یا گڈگورننس میں اپنا کردار کیسے ادا کر سکتے ہیں, اس کا جامع جواب حاصل کرنے کیلئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ گڈ گورننس یا اچھی حکمرانی کی تعریف کو سمجھا جا ئے ۔ دنیا بھر میں اچھی حکمرانی پر پا ئے جا نے والے علمی مواد یا نظریات کا اگر ُلب لباب نکا لا جا ئے تو اچھی حکمرانی کسی بھی حکومت یا انتظامی باڈی کی اس انتظامی ذمہ داریوں پر محیط ہو تی ہے جو عوام الناس کی ضرورت کے ارد گرد گھومتی ہے ۔ اچھی حکمرانی جس طریقہ کار سے عمل میں آتی ہے اس میں فیصلہ سازی اور ادا روں کے ذریعے ان فیصلوں پر عمل در آمد کروانا کلیدی حیثیت رکھتے ہیں ۔ مجمو عی طور پر اچھی حکمرانی قائم کرنے کے جزبات میں جو نمایاں خوبیاں شامل ہوتی ہیں ،ان میں لو گوں کی ضروریات اور احسا سات کی طرف سسٹم کی بہترین جوابدہی ، سرکار ی یا ادارتی امور میں شفافیت ، برابری پر مبنی انصاف، قابلیت، قانون کی حکمرانی سمیت معا شرے میں ایک ایسے وسیع اتفاق را ئے کا ہونا ضرو ری ہے جس کے ذریعے یہ تعین کیا جا سکے کہ کمیونٹی کا بہترین مفاد کیا ہے اور اسے کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ 

اس کے بر عکس بری حکمرانی معا شرے کو جوڑنے نہیں بلکہ بد عنوانی اور انتشار پر مبنی ہو تی ہے ۔ بدعنوانی کی اس و صف کے مطا بق ادا روں یا افراد کی طرف سے تفویض کیے گئے اختیا رات اور قوانین کو اپنے ذا تی مفاد میں استعمال کرکے، عوامی شعبے کے رےسورسس اور فنڈز کی خرد برد کرکے ، رشوت ، بد عنوانی ، اقربا پروری کے ذریعے پورے نظام کو مفلوج بنا دیا جا ئے اور جس سے معا شرے کی اجتما عی بہتری کا را ستہ روکا جا ئے ۔ 

ان خطوط پر ہما رے سامنے سات دھائیوں کی ایک پیچدہ تاریخ ابھرتی نظر آتی ہے ، جس میں مختلف اداروں میں سیاسی و غیرسیاسی حکومتیں اچھی حکمرانی نا فذ کرنے اور عوام کی مکمل شراکت داری جیسے بنیادی ماڈل کی تعمیر کے ایک بڑے چیلنج سے نبرد آزما رہی ہیں ۔ جیساکہ پاکستان کا انتظامی اور قانونی ڈھانچہ اور ریا ستی نظام برطانوی نوآباد یا تی نظام کا تسلسل رہا ہے، لہذا اس نظام میں سات دھا ئیوں کے با وجود کو ئی خاطر خواہ اور بنیادی تبدیلیاں نہیں لا ئی جا سکیں ۔ ایک ایسا ریاستی ڈھا نچہ جو کہ نوا ٓباد یا تی نظام کو چلا نے کیلئے بنا یا گیا تھا وہ ایک ایسے نو زائدہ ملک کے مسائل کو حل کرنے میں نا کام رہاجو کہ بیحد پیچدہ مسائل سے دو چار رہا ہے ۔ پاکستان میں حکمرانی اورخاص طورپر اچھی حکمرانی میں لوگوں کی شرا کت کیا کردار ادا کر سکتی ہے اور اس کیلئے کون سے قوانین اچھی حکمرانی قائم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں اس سوال کے جواب میں مختلف مکتبہ ہا ئے فکر کے مختلف خیالات سننے کو ملتے ہیں ۔ 

کوءٹہ کے معروف قانون دان اور سیا سی و انسانی حقوق کے سرگرم وکیل نا درحسین چھلگری کے خیال میں پاکستان میں اچھی حکمرانی کے قیام اور اس میں لو گوں کی بھر پور شرکت میں جہاں بہت سارے اور عوامل شامل ہیں ، وہاں ملک کو ورثے میں ملنے والا برطانوی نوآباد تی نظام بھی ہے جس کی کئی اور خرابیوں کے ساتھ ایک بڑی بنیادی خامی لوگوں پر عدم اعتماد ہے، کیونکہ نو آباد یا تی نظام عوام کی فلاح اور شراکت داری پر نہیں بلکہ آقاؤں اور خواص کی بہتری اور اقتدار کے دوام کیلئے تھا ۔ ہم نے سات دھا ئیوں میں اس نظام میں وہ اصلاح نہیں کی جو کہ اچھی حکمرانی اور لو گوں کی شراکت اور اعتماد کیلئے ضروری تھی ۔ ملک میں سیا سی عدم استحکام ، جمہوریت کا بار بار پٹری سے اتر جا نا، حکومتوں کا گرنا ، معاشی عد م استحکام اور خارجی و داخلی پالسیوں کے بد ترین اتار چڑھا وَ کے با عث ہما رے سیا سی ، حکومتی اور انتظامی امور میں وہ مرحلہ وار بہتری نہیں آسکی، جو کہ ہ میں اچھی حکمرانی دیتی اور اس میں لو گوں کی شمولت کو یقینی بنا تی ۔ 

ایڈووکیٹ نا در کے مطابق تاریخی طورپر ہم جس خطے میں رہتے ہیں وہ سماجی ، قبائلی اور رسم و رواج کے اعتبار سے تمام امور مشا ورت سے چلا نے کا قائل رہا ہے ، لیکن بد قسمتی سے ہم ان روایات کو اپنے حکومتی اور انتظامی ڈھانچے کا حصہ نہیں بنا سکے ۔ ان کے مطابق ریا ستی امور چلانے والے اکثر و بیشتر ادارے پولیس، افسر شاہی، عدالتیں اور دیگر ادارے لو گوں کوبہتر حکمرانی کا احساس نہیں دلا سکے، نتیجے میں شہری ان بنیادی اداروں پر اپنا اعتماد کھوتے چلے گئے ۔ ان کے مطا بق ایک بہتر اور اچھی حکمرانی کیلئے تمام حکومتی اداروں بشمول پالیسی ساز اداروں کے، عوام کے اعتماد کو بحال کرکے ان کی شراکت داری کو یقینی بنا نا پڑے گا ۔ ایڈووکیٹ نا در حسین کے مطا بق ملکی قوانین میں کچھ ایسی بہتر اصلاحات بھی ہو ئی ہیں ،جن سے اچھی حکمرانی کی راہیں کھلی ہیں ۔ جیسا کہ 2017، کے الیکشن ایکٹ کے ذریعہ خواتین، معذور افراد اور ٹرانس جینڈرز کیلئے الیکشن اور جمہوری پروسیس میں حصہ لینے کو یقینی بنا یا گیا ہے ۔ کمزوروار محروم طبقات کا پہلے مرحلے میں ووٹ کے ذریعہ نظام کا حصہ بننا اور بعد میں پالیسی سازی اور امور سرکار میں حصہ ڈالنا ایک اچھا قدم ہے ۔ تا ہم جدید دور میں ایک اچھی حکمرانی والے معا شرے کا درجہ حا صل کرنے اور لو گوں کو شریک کرنے کیلے بڑے انقلابی اقدامات اور قوانین کی ضرورت ہے ۔ ہما را ایک المیہ یہ ہے کہ ناخواندگی کی وجہ سے لو گوں کو ان مروج قوانین اور ان کے استعمال تک کی خبر نہیں ، جو قوانین ان کو سرکاری ادا روں سے معلومات لینے ، ان کے خلاف شکایت درج کرنے اور حقوق حاصل کرنے کا راستہ دکھاتے ہیں ۔ ہمارا قانونی سسٹم بھی لو گوں کی شراکت کیلئے کو ئی زیادہ آسانیاں پیدا نہیں کرتا ، جس کی بنا پر لو گوں کی بڑی تعداد شراکت اور امور سرکار سے لا تعلق رہتی ہے ۔ انصاف کے حاصلات میں وقت اور پیسے کے زیاں نے شہریوں کو نظام عدل سے دلبرداشتہ کر دیا ہے ۔ روایتی طور پر یہ روش حکمران اور با لا دست طبقات کو اسٹیٹس برقرار کھنے اور اپنا تسلط قائم رکھنے میں مدد کرتی ہے ۔ 

نادر حسین کے خیال میں ملک میں اچھی حکمرانی اور اس میں لوگوں کی شراکت داری کیلئے سیا سی پارٹیوں ، انسانی حقوق کے جملہ گروپس ، پر یشر گروپس ، ٹریڈ یونینز ، میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ۔ جدید دور میں ہم اچھی حکمرانی کے ما ڈل کے بغیر نہ ترقی کر سکتے ہیں اور نا ہی انصاف پر مبنی معا شرہ قائم کر سکتے ہیں ۔ 

اس سلسلے میں جب حکمران جماعت پی ٹی آئی کے رھنما ،ممبر بلوچستان اسمبلی اور صو با ئی وزیر محمد عمر جمالی کے سامنے اچھی حکمرانی اور شہریوں کی شرکت کے حوالے سے سوالات رکھے گئے تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مر کزی اورصو با ئی حکومتوں کیلئے یہ دور حا ضر کا سب سے بڑا سوال اور چیلنچ ہے، جس کو حل کیے بغیر ہما را سفر اُسی ایک دائرے میں ہو گا ، جو کہ ہم دھا ئیوں سے کرتے ہو ئے آئے ہیں ۔ ایم پی اے محمد عمر جما لی کے مطا بق ہما رے سسٹم کی خرابیوں ، معاشی مسائل ، کثیرآبادی اور مروج سیاسی و سماجی نظام نے اتنے مسائل پیدا کئے ہوئے ہیں کہ ہم اچھی حکمرانی کی اس منزل کو نہیں پہنچ سکے ، جہاں دنیا کے اکثر ترقی یافتہ ممالک اور ایک بڑی تعدا د میں ترقی پزیر ممالک کھڑے ہیں ۔ گو کہ آج ہم ماضی کے مقابلے بہت سارے شعبوں میں بہتر حالت میں کھڑے ہیں ، اور نظام میں عوام کی شراکت داری پہلے سے کئی درجہ بہتر ہے ۔ جدید سائنس و ٹیکنالوجی نے معلومات کے وہ راستے کھو ل دئے ہیں جن کی بنا پر آج کو ئی بھی عام آدمی اسمبلی میں قانون سازی ، ڈپارٹمنٹس کی کارکردگی اور کام وغیرہ کے متعلق اپنے کمپیوٹر اور مو با ئل وغیرہ پر فوری معلومات حا صل کر سکتا ہے ۔ پہلے عام آدمی کو تو بلکل خبر نہیں ہو تی تھی کہ ان کا منتخب نما ئندہ کہاں ہے اور کیا کر رہا ہے ۔ لیکن آج کے جدید میڈیا اور بلخصوص سوشل میڈیا نے لوگوں کو پل پل کی آگاہی دے رکھی ہے ۔ وزراء، ایم این ایز، ایم پی ایز، مشیران اور دیگر انتظامی افسران ، سوشل میڈیا کے ہینڈ لز اور گروپس کے ذریعے صحافی، عام شہری اور ووٹرز آپس میں جڑے ہو ئے اور باخبر ہیں ۔ عمر جمالی کے مطابق ان کو اپنے حلقے اور ووٹرز کے معلق زیا دہ تر معلومات ،شکایات اور فیڈ بیک اب سوشل میڈیا کے ذریعے ملتا ہے ، جو کہ ایک مثبت قدم اور لو گوں کی شراکت داری کا بڑھتا ہوا ذریعہ ہے ۔ تا ہم بہترین حکمرانی کی منزل تک پہنچنے کیلئے اب بھی ایک طویل سفر طے کرنا ہو گا ۔ ان کے مطابق یہ ایک حقیقت ہے کہ حکومت کے متعلق لو گوں کے تصورات ایک لمبے تجربے اور ما یوسی کی بنا پر استوار ہو ئے ہیں ، تا ہم جدید قوانین سے دوریوں کو کم کر کے اشتراک پیدا کیا جا سکتا ہے ۔ مثال کے طور پر عام شہری کا حکومت کے ترقیاتی پروگرام کے با بت یہ خیال ہوتا ہے کہ روڈ ، راستے ، اسکول، ہسپتال و تمام بڑی اور چھوٹی ترقیاتی اسکیموں کے فنڈز نمائدے اور افسر شاہی مل کر ہڑپ کر جا تے ہیں ۔ یہ ایک مروج سوچ ہے، لیکن حقیقت میں کلی طور پرایسا نہیں ہو سکتا ہے ۔ ایک ترقیاتی اسکیم کی پی اینڈ ڈی سے منظوری کے ابتدائی مرحلے سے لیکر ٹینڈرز اور کام کی پیش رفت تک تمام معلومات دستاویزی شکل میں موجود ہو تی ہے، جسے کو ئی بھی شہری حاصل کر سکتا ہے ۔ تمام شہری اور میڈیا اس معلومات کو حاصل کر کے اپنے لئے آگا ہی اور شراکت داری کاکردار ادا کر سکتے ہیں ۔ عمر جمالی کے خیال میں ای ۔ گورننس اورمعلومات کی رسا ئی کا قانون 2017 دو ایسی چیزیں ہیں جو روا یتی گورننس اور شہریوں کی عدم شرکت کے پرا نے تصور کو توڑ کر حکمرانی کا ایک نیا بہتر اور شراکتی نظام برپا کرسکتی ہیں ،اس کیلئے معا شرے کے پالیسی ساز اور اطلاق کرنے والے ادا روں سمیت تمام اسٹیک ہو لڈر ز کو اپنا کردار ادا کرنا پڑیگا ۔ 

کوٹہ میں برسوں سے عملی صحافت کے شعبے سے وابسطہ اور 92گروپ کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر خلیل احمد اپنے صحافتی تجربے کی بنیاد پر ملک اور بلوچستان میں اچھی حکمرانی اور لوگوں کو شمولیت کے متعلق اتنے پر امید نہیں ہیں ۔ ان کے مطا بق اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے دوران وہ جن جن خبروں سے نمٹتے رہتے ہیں وہ زیادہ تر عوامی مسائل ، شکایات ،امن وامان ،انتظامی امور اور کرپشن وغیرہ سے جڑی ہوئی ہو تی ہیں ۔ خلیل احمد کا کہنا ہے کہ ان کا کام اور روزانہ کی خبریں ہی اس سوال کا جواب ہو تی ہیں کہ حکمرانی اور خاص طور پر اچھی حکمرانی اور شہریوں کی اس عملی شراکت کے لحاظ سے ہم کہاں کھڑے ہو ئے ہیں ۔ ان کے مطابق گو کہ معلومات تک رسا ئی سے لیکر بہت سارے دیگر قوانین ملک میں مو جود ہیں ، لیکن ابھی تک سرکاری اور خودمختار اداروں کی ایک کثیر تعداد اب بھی معلومات دینے سے سخت نالاں ہو تی ہے ۔ عام شہریوں کو تو چھوڑ دیں ادارے کسی صحافتی اسٹوری یا خبر کی تصدیق یا تردید کیلئے بھی بنیادی دستاویزی معلومات نہیں دیتے ۔ ان کے مطا بق اس کی بنیادی وجہ سرکاری ادا روں کا روایتی رویہ باہمی، اعتماد کی کمی اور کرپشن وغیرہ جیسے عوامل ہیں ۔ اداروں میں بیٹھے افسران اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ 

اخبارات یا ٹی وی ان سے معلومات حاصل کرکے کسی ایسی اسٹوری کا حصہ بنا دے گی، جس میں کہیں نہ کہیں ان کانام اور کام ظا ہر ہو سکتا ہے اور اکثر و بیشتر ایسا ہو تا بھی رہتا ہے، کیونکہ ہما را میڈیا بھی اسی ہی معا شرے کا حصہ ہے ۔ 

خلیل احمد کا کہنا ہے کہ گذشتہ دھا ئی میں میڈیا کی ترقی خاص طور پر منظم انداز میں ٹی وی چینلز کے ایک صنعت کے طور پر ابھرنے ے جہاں معلومات تک رسا ئی بہترا ور آسان ہو گئی تھی وہاں حکومتوں اور عوام کے درمیان رابطے کا بھی ایک موثر ذریعہ پیدا ہوا تھا ۔ لیکن معا شی بحران اور مو جودہ حکومتی پالیسیوں نے اس صنعت کو بری طرح متا ثر کیا ہے ۔ اس انڈسٹری کی بحران سے جہاں بے روز گار ی پیدا ہو رہی ہے وہاں ایک ایسا وسیلہ بھی کمزور پڑرہا ہے، جو کہ حکومت اور شہریوں کے درمیان رابطے اور اشتراک کی معا ونت کیلئے دستیاب تھا ۔ گذشتہ 10سالوں میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے اچھی حکمرانی ، عوامی ، شراکت داری ، کرپشن، امن و امان، ترقیاتی پرا جیکٹس ، شفافیت، قانون کی حکمرانی اور عوامی مسائل کے حل کیلے سینکڑوں نہیں ہزاروں اسٹوریز اور رپورٹس پیش کی ہیں ، جو کہ کسی ایک شعبے کی طرف سے اچھی حکمرانی اور شہریوں کی اس میں شرکت کیلئے سب سے بڑا محاذ ثابت ھوا ہے ۔ 

اس سلسلے میں ریجنل سیکریٹری ٹرانسپورٹ اور سینئر سرکاری افسر روحا نہ گل کاکڑ کا کہنا تھا کہ گڈ گورننس اور اس میں شہریوں کی شرکت کے حوالے سے ملک میں پہلے سے بہتر حالات ہیں ۔ ان کے مطابق آج سے10 سال پہلے لوگوں کو امورحکمرانی ، سیاست یا سر کا روں کے بننے یا ان کے کام سے دلچسپی بہت کم تھی ۔ آج معلومات کے جدید زراءع کی وجہ سے شہری اگر مکمل شرکت نہیں کر رہے تو وہ لا تعلق بھی نہیں ہیں ۔ 

روحا نہ گل کے مطابق برطانوی طرز کے حکمرانی نظام میں خامیاں ضرور تھیں لیکن کمشنر ، ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر تک جتنے اختیارات تھے ان سے دگنی جوابدہی ہوا کرتی تھی ۔ روحانہ گل جو خود بھی اسسٹنٹ کمشنر رہ چکی ہیں ،ان کے مطابق ایک ضلع کے یونٹ تک ڈپٹی کمشنر بہترین انتظامی ادا رہ رہا ہے، جب اُس سے مجسٹریٹ کے پا ور لے لئے گئے تو اچا نک یہ ادا رہ کمزور پڑنے لگا ۔ ان کے مطا بق اختیارات کی تقسیم یا سیپریشن آف پا ور اچھی بات ہے لیکن یہ کام بتدیریج ہونا چاہیے تھا ۔ روحا نہ گل کا کہنا تھا کہ اچھی حکمرانی کیلئے مختلف ادا وار میں قانون سا زی اور دیگر اقدامات اٹھا ئے گئے ہیں جن سے بہتری کی امید ہے ۔ ان کے مطا بق سائنس اور ٹیکنا لو جی ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے زیا دہ استعمال سے افراد کا عمل دخل کم ہوتا جا تا ہے ۔ آپ اپنے سسٹم میں جتنے آٹومیشن لا تے جا ئیں گے اتنی ہی بہتری اور شفافیت پیدا ہو تی جا ئے گی ۔ ان کے مطا بق ای ۔ گورننس اور مختلف اداروں کی طرف سے آن لائین سہو لیات اور معلو مات بہم پہنچا نے سے بہت حد تک آگاہی آ چکی ہے اور شہریوں کی شرکت دن بہ دن بڑھ رہی ہے ۔ اگر ہم مرکزی صو با ئی اور مکا نی اداروں کے کام کاج کو زیا دہ سے زیا دہ خود کا راور انٹرنیٹ کے ذریعہ چلا ئیں گے تو بتدریح بہتری آئے گی ۔ ان کے مطا بق اچھی حکمرانی اور ان میں شہریوں کی شرکت کو یقینی بنانے کیلئے ہ میں اب بھی بہت سارے اقدامات اٹھا نے کی ضرورت ہے ۔ 

اچھی حکمرانی اور اس میں لو گوں کی شراکت کو بڑھا نے کے متعلق سوالات کو لیکر جو جوابات اور نقط نظر سامنے آیا ہے اس کے مطا بق ہما رے معا شرے میں اچھی حکمرانی قائم کرنے کیلئے اب بھی بہت ساری اصلاحات اور قوانین بنانے کی ضرورت ہے ۔ ملک میں کئی دھا ئیوں سے جا ری نو آبادیاتی سسٹم کو ایک جدید اور خود کار کمپیوٹرائز سسٹم میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جو کہ کار گردگی کی بنیاد پر تمام اشیاء اور خدمات کی ترسیل کی بنیاد بن سکے ۔ تمام سرکاری ، پارلیمانی امور میں شفافیت ، کھلے پن اور شرکت کو یقینی بنا یا جا ئے اور شہریوں کو تمام معلومات تک رسا ئی ہونی چا ہئے ۔ ملک کے عدالتی نظام کو بہتر اور موثر ہونا چا ہیے تا کہ انصاف کی فراہمی بر وقت ہواور ہر جرم بشمول کرپشن کو عدالتوں کے ذریعے ختم کیا جا ئے ۔ پو لیس کو جدید تربیت دے کر ان کی پیشہ ورانہ استعدا د کو بڑھا یا جا ئے اور پولیس کے معاملات دیکھنے کیلئیے ایک آزاد کمیشن ہونا چا ہیے ۔ کمیونٹی پولیسنگ متعارف کروا کر روا یتی پولیس کے نظام کو بتدیریح کم کیا جا ئے ۔ مکا نی ادا روں میں شہریوں کی شمولیت کو یقینی بنا کر اس میں بے جا ریاستی اور انتظامی مدا خلت کو ختم کیا جائے ۔ تمام ترقیاتی فنڈز کی ایک آزاد آڈٹ کروا کر اس رپورٹ کو پیلک کیا جا ئے ۔ 

ملک کی ہر سطح پر جاری تمام ترقیاتی منصوبوں کو قانونی تحفظ دیا جا ئے تا کہ وہ کسی بھی سیاسی و حکومتی تبدیلی کے با وجود جا ری رہیں ، کیونکہ اچھی حکمرانی کا تعلق ایک بہتر ترقیاتی ماڈل سے جڑا ہوا ہے، جو کہ شہریوں کیلئے روزگار، اعتماد اور شراکت کے راستے کھولتا ہے ۔ 

ترقیاتی کاموں میں دیہی و شہری علاقوں کی تفریق

شاھنواز چاچڑ

پاکستان بنیادی طور پر ایک ذرعی ملک ہے جس کی 60% فیصد سے زیادہ آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے، لیکن حکومتی ترقیاتی اسکیموں کی دیہی و شہری علاقوں میں تفریق واضع نظر آتی ہے۔ دیہی علاقوں میں یہ تعصر عام پایا جاتا ہے کہ ملک میں حکومت کی طرف سے ترقیاتی کاموں میں دیہی علاقوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، اور پاکستان کے صوبے بلوچستان میں بھی ترقیاتی اخراجات و عوامی سہولیات کی سرکاری اسکیموں کے حوالے سے یہ دیہی و شہری تفریق محسوس کی جاتی ہے جس کی وجہ سے صوبے کی ترقی کی شرح میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا ہے.

رہتی ہے، لیکن حکومتی ترقیاتی اسکیموں کی دیہی و شہری علاقوں میں تفریق واضع نظر آتی ہے۔ دیہی علاقوں میں یہ تعصر عام پایا جاتا ہے کہ ملک میں حکومت کی طرف سے ترقیاتی کاموں میں دیہی علاقوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، اور پاکستان کے صوبے بلوچستان میں بھی ترقیاتی اخراجات و عوامی سہولیات کی سرکاری اسکیموں کے حوالے سے یہ دیہی و شہری تفریق محسوس کی جاتی ہے جس کی وجہ سے صوبے کی ترقی کی شرح میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا ہے.

رہتی ہے، لیکن حکومتی ترقیاتی اسکیموں کی دیہی و شہری علاقوں میں تفریق واضع نظر آتی ہے۔ دیہی علاقوں میں یہ تعصر عام پایا جاتا ہے کہ ملک میں حکومت کی طرف سے ترقیاتی کاموں میں دیہی علاقوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، اور پاکستان کے صوبے بلوچستان میں بھی ترقیاتی اخراجات و عوامی سہولیات کی سرکاری اسکیموں کے حوالے سے یہ دیہی و شہری تفریق محسوس کی جاتی ہے جس کی وجہ سے صوبے کی ترقی کی شرح میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا ہے.

بلوچستان ملک کا سب سے پسماندہ علاقہ ہے اور گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک تعصر پایا جاتا ہے کہ سرکاری مشنری نے اس صوبے کو نظرانداز کیا ہوا ہے. صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں کی حالت بہت ہی خستہ ہے جو سرکاری توجہ کی منتظر ہیں. اس صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی بھی غیر منصفانہ تفریق پائی جاتی ہے. علاقہ مکینوں کے مطابق ایک تو ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بلوچستان کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں نظرانداز کیا جاتا ہے اور جو منصوبے ملتے ہیں اس میں بھی بڑی حد تک شہری اور دیہی تفریق نمایاں نظر آتی ہے.

کوئٹہ کے رہائشی ایوب ترین سینیئر صحافی ہیں اور ایک نجی نشریاتی ادارے سے منسلک ہیں. ان کا کہنا ہے کہ صوبے کا ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ شہری علاقوں پر خرچ کیا جاتا ہے اور جو تھوڑا کچھ بچتا ہے وہ دیہی علاقوں کو دیا جاتا ہے. حکومت کے اس عمل سے صاف تفریق دکھائی دیتی ہے.

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں جنتی بھی حکومتیں بنی ہیں سب نے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے دیہی علاقوں سے ناانصافی کی ہے اور تمام شعبوں میں ان کو پیچھے دھکیلا گیا ہے. ان کے مطابق اگر کوئٹہ سے باہر قدم رکھا جائے گا تو معلوم ہو گا کی حکومت اس صوبے کے عوام سے کتنی مخلص ہے.

ان کے مطابق دیہی علاقے پہلے ہی صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں مشکل صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں جس کی وجہ حکومت کی توجہ نہ ہونا ہے. صوبے کے منتخب نمائندے بھی اپنا کام صحیع طور پر سر انجام نہیں دے رہے ہیں.

انہوں نے مزید بتایا کہ ترقی کے حوالے سے شہری اور دیہی علاقوں میں اس قدر خلیج بن چکی ہے کہ اس اب بیلینس کرنا بھی حکومت کےلیے مشکل کام ہے. صوبے میں اس تفریق کی وجہ بدترین کرپشن اور حکومت کی توجہ کا نہ ہونا ہے.

گزشتہ برس وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے 1600 ترقیاتی منصوبوں کی تحقیقات کا حکم دیا تھا. ان منصوبوں کو سالانہ صوبائی ترقیاتی پروگرام کے تحت مناسب طرز عمل اپنائے بغیر شروع کیا گیا تھا.

محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کے حکام کے مطابق اربوں روپے کی مالیت کی ان منصوبوں کو سیاسی عمل دخل اور ذاتی خواہشات کی بنا پر منظور کیا گیا تھا اور ان منصوبوں کےلیے کسی متعلقہ حکام سے تجاویز بھی حاصل نہیں کی گئی تھی.

کوئٹہ کے ہی رہائشی ملک سلام خان جو سماجی کارکن ہیں اور ایک این جی او سے وابستہ ہیں. ان کا کہنا ہے کہ جو بھی حکومت بنتی ہے تو وہ بلوچستان کی ترقی کی لیے بلند دعوے کرتی ہے لیکن آج تک اس صوبے کی پسماندگی ختم نہیں ہوئی. ان کے مطابق ترقیاتی بجٹ کا زہادہ تر حصہ منتخب نمائندوں اور سرکاری افسران کی جیبوں میں جاتا ہے جس کی وجہ سے صوبے کے حالات بدتر ہیں.

بلوچستان قدرتی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود ملک کا سب سے پسماندہ صوبہ ہے اور یہ مختلف شعبوں میں پسماندگی کا شکار ہے. عوام کو بنیادی سہولیات مسیر نہیں ہیں بالخصوص پینے کا صاف پانی، تعلیم و صحت کی سہولیات قابل توجہ ہیں جبکہ حکومت عام لوگوں کی معاشی اور سماجی ترقی کےلیے کوئی خاص قسم نہیں اٹھا رہی ہے.

بلوچستان کا شاید ہی کوئی ایسا شہر یا بڑی آبادی ہو جہاں پر عوام کو مناسب شہری سہولیات میسر ہوں. ایک نظر دوڑانے پر بلوچستان ایک وسیع وعریض کچی آبادی نظر آتا ہے اور یہاں مناسب شہری سہولیات دستیاب نہیں.

صوبے کے سینکڑوں شہروں میں صحت وصفائی کا وجود نہیں جس کی وجہ سے بیماریاں پھیل رہی ہیں جس سے ہلاکتوں میں اضافہ ہورہا ہے اور سرکاری اسپتالوں پر دباؤ بڑھتاجارہا ہے جس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ مقامی کونسلوں کو جتنے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں اس کا نوے فیصد ملازمین کی تنخواہوں کی نظر ہوجاتا ہے،صحت وصفائی سڑکوں کی تعمیر کیلئے کچھ نہیں بچتا. جس کی وجہ سے مقامی کونسلوں کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہوکر رہ گیا ہے، اب اس میں یہ صلاحیت باقی نہیں رہی کہ وہ مقامی آبادی کی کسی بھی طرح خدمت کر سکے. ترقیاتی پروگراموں میں بلوچستان کے بیشتر چھوٹے شہروں اور پسماندہ ترین علاقوں کونظرانداز کیاجاتا ہے، جس سے صوبے کی بہت بڑی آبادی بنیادی سہولتوں سے محروم رہی ہے، جن میں اسکول، ہسپتال، پکی سڑک اور ذرعی ترقیاتی کی اسکیمیں شامل ہیں۔

محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کے ایک اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ حکومت ترقیاتی منصوبوں کی تقسیم میں دیہی اور شہری علاقوں میں تفریق کرتی ہے. ان کے مطابق صوبے بھر کی ترقی کےلیے کوشاں ہے اور حکومت سنجیدگی کے ساتھ کام کر رہی ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں کے مختلف منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائے ہیں اور عوام اس سے مستفید ہو رہی ہے.

کوئتہ سے تعلق رکھنے والے ایک سماجی کارکن عرفان گل بنگلزئی نے اس بارے میں کہا ـ اگر حکومتی ادارے اور حکمران بلوچستان سمیت پاکستان کے دیگر دیہی علاقوں میں بنیادی سہولتیں مہیا کردیں تو ان دیہی علاقوں میں رہنے والے افراد ملک کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، تعلیم، صحت اور سڑکوں جیسی سہولیات سے مقامی دیہی آبادیوں میں نئے معاشی مواقعہ پیدا ہونگیں، اور سینکڑوں دیہی ھنرمند نوجوانوں کو شہروں تک رسائی مل سکے گی۔

عورتوں کے حقوق کے لیے کی جانے والی قانونسازی اور آگاہی۔

شاھنواز چاچڑ

عورتوں کے حقوق پر کام کرنے والی ایک تنظیم کی طرف سے شایع کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق 2018 میں پورے بلوچستان میں ہر دوسرے دن ایک عورت تشدد کا نشانہ بنتی رہی۔

بلوچستان میں خواتین کو ان گنت مسائل کا سامنا ہے کاروکاری سیاہ کاری اس طرح کے کئی ناموں سے عورت کا ہمارے معاشرے میں روزانہ کا  احتصال معمول ہے کیا وجوہات ہیں کہ دن بدن خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے واقعات جنم لے رہے ہیں کیا عدلیہ پولیس انتظامیہ یا دیگر اداروں میں خواتین کی نمائندگی کا نہ ہونا ان واقعات کا باعث ہیں یا شعور و آگہی کی کمی ہے یا کوئی اور وجہ اگر ماضی کے مقابلے میں آج دیکھا جائے  تو مختلف شعبوں  میں خواتین کی نمائندگی میں واضح اضافہ ہوا ہے اب خواتین بہت سے اداروں میں اپنے فرائض بخوبی سرانجام دے رہی ہیں، اس کے باوجود خواتین  کے خلاف ہونے والے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ لیکن دوسری طرف تعلیم کی کمی قبائلی معاشرے کی وجہ سے عورتوں کی بڑی تعداد اپنے بنیادی حقوق سے آگاہی نہیں رکھتی۔

اس بارے میں سابقہ مشیر خزانہ ڈاکٹر رفیعہ ہاشمی کا کہنا ہے کہ ہم نے خواتین کے لئے اسمبلی میں قانون سازی کی خواتین کے تحفظ کے لیے باقاعدہ قوانین منظور کروائے صنفی مساوات کی پالیسی سمیت گھریلو تشدد کی روک تھام اور ان کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے 2014 میں ایکٹ بنایا گیا اسی طرح کے بے شمار خواتین کی فلاح و بہبود اور ان کے تحفظ کے لئے قوانین منظور کراے گے  عورتوں کے خلاف تشدد میں ا ضا فہ ایک سنگین مسلہ ہے اسکے لیے ہم سب نے مل کر لڑنا ہے جب کسی معاشرے میں عورت عدم تحفظ کا شکار ہو تووہاں بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں بلوچستان میں خواتین کے حقوق کے لئے  قوانین موجودہیں اوران پر عملدرآمد کرانا حکومت کا کام ہے بلوچستان کی اکثریت آبادی دہی علاقوں پر مشتمل ہے جہاں حکومتی نظام کے علاوہ قبائلی،  علاقائی رسم و رواج بھی عورتوں کی زندگیوں کو  شدید متاثر کرتے ہیں جیسے جرگوں کے فیصلوں میں لڑکیوں کی شادی اور دیگر مسائل طے کرنا شامل ہیں ناخواندگی جیسی دیگر وجوہات میں سے ایک اہم وجہ خواتین اپنے حقوق اوراپنے بارے میں قوانین سے لاعلم ہیں  

سماجی ورکر اور انسانی حقوق کی مقامی رہنما جلیلہ حیدر کا کہنا ہے کہ یہاں خواتین کو دورے قوانین سے گزرنا پڑتا ہے ہے ہمارے لیے الگ اور مردوں کے لیے الگ قانون ہے مردغیرت کے نام پر قتل کر کے کچھ عرصے بعد واپس روڈ پر دندناتا پھر رہا ہوتا ہے خواتین سے امتیازی سلوک کا آپ روزانہ مشاہدہ کر سکتے ہیں ہماری زندگی کے فیصلے ملک قبائیلی معشر اور معتبر کرتے ہیں حالانکہ عورت خود ٹیچر  ہے بچوں کی ابتدائی تعلیم عورتیں ہی سر انجام دیتی ہیں اس کے باوجود عورتوں کو امتیازی سلوک کا سامنا رہتا ہے خواتین کی حالت زار بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں سیاسی سطح پر مستحکم کیا جائے  ہمارے ہاں رائج قبائلی رسم و رواج کے تحت عورت کو جائیداد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جو اس کے حقوق کے برعکس ہے عورت۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں عورت کو گھر، آفس سمیت معاشرے میں اس کا مقام دینا ہوگا جو اس کا مذہبی سماجی قبائیلی اورقانونی حق ہے، اس کے بغیر معاشرے کی ترقی نامکمل ہے خواتین کے حقوق کے بارے میں شاید صرف ان لوگوں کو پتا ہے جو پڑھے لکھے ہیں، اور آئے دن عورتوں کے حقوق کے بارے میں سیمناروں میں خطاب کررہے ہوتے ہیں، جس عورت کا مسئلہ ہے اسے کچھ علم نہیں ہمارے صوبے کی دور دراز کے دیہی علاقوں میں عورت ہونے کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ وہ مرد کی غلام رہے۔ 

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی سیاسی و سماجی کارکن ڈاکٹر ارم فاطمہ کا کہنا ہے کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں، گھر کے مرد اس بات کو تع کرتے ہیں کہ ان کی عورتوں کو کن کاموں میں شمولیت اختیار کرنی چاہیے، بہت سارے ایسے علاقے ہیں جہاں پر ہم عورتوں کی سیاسی سماجی سرگرمیوں میں شمولیت کرانے کے لیے ان کے مردوں سے اجازت لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تو صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے جو عورتوں کے حقوق کے حوالے سے جو قانون بنائے ہیں ان کے بارے میں دور دراز علاقوں میں آگاہی دینی چاہیے اور ان کاموں کے لیے روایتی میڈیا اور سیمینار سے بڑھ کر ہمیں کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر ارم فاطمہ نےمزید کہا کہ لڑکیوں کی بنیادی تعلیم ایک بہترین طریقہ ہے جس سے آپ نہ صرف انہیں بہتر زندگی گزارنے کا ہنر دےسکتے ہیں، بلکہ انہیں اپنے حقوق کی آگاہی اور ان کے حصول کے راستے بتا سکتے ہیں۔ عورت اس معاشرے کا برابر حصہ ہے جب تک معاشرے کے ترقی میں عورت کا کردار واضع طور پر شامل نہیں ہوگا، ہمارے معاشرے کی ترقی ناممکن ہے۔

علاوالدین خلجی ریذ یڈنٹ ڈائرکٹر  عورت فاونڈیشن بلوچستان کا کہنا ہے شعور و آگہی کے لیے ہماری تنظیم لا ڈیپارٹمنٹ اور وومن ڈیپارٹمنٹ کے اشتراک سے وقتاً فوقتاً  سیمینار ورکشاپ اور عام آگاہی کی مہم کے ذریعے عوام کو آگاہی فراہم کی جاتی ہے، عورتوں میں آگاہی کے اقدامات کے لیے این جی ایوز اور حکومتی اداروں کے اشتراک سے مربوط نظام وضع ہونا چاہیے جومعاشرتی و سماجی بنیادوں پر استوار ہو۔ خواتین کی حالت زار بدلنے کے لیے سیاسی و معاشی طور پران کو مظبوط اور تعلیم کے زیور سے آرستہ کیا جانا پاہیے، اور گھر میں بیٹوں اور بیٹیوں میں تفریق کے بوسیدہ رسم و  رواجوں کو ختم کرنا ہوگا اس طرح کے دیگر اقدامات سے  عورتوں کے خلاف امتیازی سلوک میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہیں۔ علاؤالدین خلجی کا کہنا ہے کہ ہم آنر کلنگ اور سیاہ کاری کے خلاف مہم چلا رہے ہیں جس کے لئے ہم پینا فلیکس پوسٹر پمفلٹس اور بروشر کے ذریعے عوام کی توجہ ان سنگین مسائل کی طرف مبذول کرارہے ہیں اور معاشرے کے چہرے پر بد نما  رسم ورواج کے نام پر ناحق خون خرابے کے خلاف شعور کے لیے مقامی میڈیا کے ذریعے بھی تشہیری مہم وقتاَ فوقتاً چلائی جاتی ہیں

صوبے کے دور دراز کے علاقوں کی خواتین کو حقوق کی آگاہی کے بارے میں ایک خاتون ملازمہ سائرہ احمد کا کہنا تھا کہ یہاں شہر میں ہم روز لوگوں کے عدم مساوات کا نشانہ بنتی ہیں جب ہم گھر سے باہر نکلتی ہیں، ہم کسی دفتر میں کام کرتے ہوئے یا شہر میں رہ کر  اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں، اور ایسے میں آپ دور دراز کی خاتون کا اندازہ لگائیں کیا ہو رہا ہوگا اس کے ساتھ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھہ مقامی دیہی علاقوں میں تو سالن میں اگر گوشت پکا ہے تو وہ صرف مرد کا حق ہے، اور شوربہ عورت کے لیے، دودھ والی چائے مرد کے لیے اور قہوہ عورت کے لیے۔ جب اس طرح کی صورت حال ہوگی تو آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ کتنی بڑی کم علمی کے ساتھ ہماری خواتین دہی علاقوں میں اپنی زندگی گزار رہی ہیں۔

بلوچستان میں جرم کے واقعات میں کمی۔

شاھنواز چاچڑ

ٹیلیویزن کی خبریں ہوں یا اخبارات گزرے سالوں میں جب بھی بلوچستان کا ذکر سننے یا دیکھنے کو ملا زیادہ طر وہان ہونے والے جرم، تشدد اور دھشتگردی کے واقعات کی خبروں کی وجہ سے سنا ہے۔

اگر ہم ماضی کے مقابلے میں صرف پانچ سالوں کے کرائم کا ریکارڈ دیکھیں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ بد امنی کے واقعات میں کافی حد تک کمی آئی ہیں,  اس تحریر میں ہم نے کوشش کی ہے کہ پچھلے سات سالوں میں ہونے والے جرائم کے اعداد و شمار پر ایک نظر ڈالیں اور اس بارے میں شہریوں سے بھی بات کریں۔


نیشنل پولیس بیورو کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار

نیشنل پولیس بیورو کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۱۳ سے ۲۰۱۸ تک صوبہ بلوچستان مین اکسٹھ ھزار پانچ سو آتھ جرائم رپورٹ ہوے، جن میں قتل، ڈکیتی، چوری، اور بھینس چوری کے جرائم شامل ہیں، پچھلے سات سالوں میں دو ھزار سترہ میں سب سے زیادہ جرائم کے واقعات رپورٹ ہوے جن کی تعداد نو ھزار چار سو بیانوے ہے۔ لیکن ان اعداد و شمار میں 79% فیصد جرائم کے واقعات کے بارے ہیں نہیں بتایا گیا کہ یہ کس قسم کے واقعات ہیں، اور انہیں صرف  دیگر جرائم لکھا گیا ہے۔


نیشنل پولیس بیورو کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار

نیشنل پولیس بیورو کی شایع کردہ جرائم کے اعداد و شمار کے مطابق، پچھلے سات سالوں میں بلوچستان میں رپورٹ ہونے والے قتل، اغوا برائے تاوان اورڈکیتی کی وارداتوں میں پچاس فیصد سے زیادہ کمی ہوئی ہے۔

ڈیلی ڈان سے وابسطہ صحافی اکبر نوتیزئی کہتے ہیں گزشتہ پانچ سالوں کے مقابلے میں صوبے میں کافی حد تک امن قائم ہوا ہے اسے قبل اگست کے مہینے میں ہر شخص ڈر اور خوف میں مبتلا رہتا تھا کہ کوئی بلاسٹ یا کوئی ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ پیش نہ ا جائے

ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل مسافر خوف اور ڈر کے ساتھ سفر کرتے تھے لیکن اب آپ صوبے بھر میں بلا خوف خطر سفر کر سکتے ہیں ، اب صوبے میں کوئی نو گو ایریا نہیں جبکہ اس سے قبل سفر کرتے ہوئے لوگ خوفزدہ ہوتے تھے تھے اور مسافر دن میں سورج کی روشنی میں سفر کو ترجیح دیتے تھے تھے لیکن اب رات ہو یا دن پورے بلوچستان میں بلا خوف خطر سفر کر سکتے ہیں اکبر نوتیزئی کا کہنا تھا کہ امن وامان کی بہتری سے اب صوبے میں آمد و رفت کا کوئی مسلہ نہیں رہا اب کافی تعداد میں اندرون ملک سے لوگ کویٹہ زیارت اور دیگر علاقوں میں سیر و سیاحت کی غرض کے علاوہ کاروبار کے لیے لوگ آرہے ہیں جس سے نہ صرف ہوٹلنگ ٹرانسپورٹ بلکہ مقامی ابادی کے روزگار میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے

ڈپٹی سپریڈنٹ آف پولیس آصف غفور کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں سٹریٹ کرائم اغوا براے تعاوان اور ٹارگٹ کلنگ سمیت دیگر واقعات میں نمایاں حد تک کمی آئی ہے اور پہلے کی نسبت امن وامان کی صورتحال بھی بہت بہتر ہے ان کا کہنا ہے اس کی بہت سی وجوہات ہیں اب پہلے کی نسبت عوام بھی دہشتگردوں کے ہتھکنڈوں سے کافی حد تک ٓاگاہ ہو چکے جنکہ دوسری بنیادی وجہ پولیس کی نفری اور سہولیات میں اضافہ ہیں محکمہ پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنے سے ہمیشہ مثبت اثرات مرتب ہوے ہیں خصوصا ایگل اسکواڈ، آر آر جی اور تھانوں کی اپنی نفری کی کی پیٹرولنگ سے جرائم کی شرح میں کافی کمی آئی ہے اس کے علاوہ وہ کاؤنٹر ٹیررزم کی دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کاروائیوں سے صوبے میں لسانیات اور مذہبی منافرت پر مبنی گروہوں کا خاتمہ ممکن ہوا ہے جب سے حکومت نے پولیس ،لیویزاور دءگر قانون نافذ کرنے والے اداروں میں رابطے اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کاروائیوں سے دشمنوں کو کافی پسپائی ہوئی ہیں ڈی ایس پی آصف غفور کا کہنا تھا کہ ماضی سے آج پولیس کے پاس نفری جدید آلات گاڑیوں اور دیگر سہولیات میں اضافہ ہوا ہے جس سے امن وامان کی صورتحال میں بہتری ہوئی ہیں

امن و امان کی موجودہ صورتحال کے بارے میں میڈیکل کی فیلڈ سے وابستہ محمد سلمان کا کہنا ہے کہ چند برس قبل تک میں اپنے کاروبار کے لئے اندرون بلوچستان سفر کرتا تھا اے روز ہڑتالوں اور بد امنی بھتہ خوری اور اغوا براے تاوان ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں جیسے واقعات سے میں اور میرے گھر والے کافی پریشان رہتے تھے ہر ایک گھنٹے کے بعد گھر سے فون پر رابط رہتا اسی طرح جب تک بچے اسکول سے واپس نہیں آجاتے گھر میں بے سکونی رہتی تھی اب ماشاءاللہ بہت امن قائم ہوگیا ہے ،اب ہم سب گھر والوں کے ساتھ شام کو پارک میں انجواے کرتے ہیں اور بچے خوب کھیلتے ہیں اب اپ بلوچستان کے کسی بھی پکنک پوائنٹ پربلا خوف وخطر جاسکتے ہیں چند برس قبل تو گھر سے باہر نکلنا محال تھا.

سبی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان عبدالفتاح نے بتایا کہ بلوچستان تعلیم، کاروبار یا کام کے زیادہ مواقع نہ ہونے کی وجہ سے اکثر علاقوں سے بڑی تعداد میں نوجوان کراچی، کوئٹہ یا ملک کے دوسرے شہروں کا رخ کرتے ہیں، لیکن جب حالات ہی خراب ہوں تو ان کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور گھروالوں کو بھی پریشانی رہتے ہے۔ جب آپ اپنے شہر سے دور کسی اور شہر میں کام کرتے ہون اور آپ کے گھر والے ٹی وی پر اس شہر کے بارے میں کوئی بری خبر سنیں تو انہیں فورن اپنے پیاروں کی خیر خبر دریافت کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا جرائم میں کمی شہریوں کے لیے ایک خوش آئندہ بات ہے اور اس سے شہریوں کی زندگی میں بہتری آئے گی۔

دریجی شہر کا امن، پاکستان میں ایک مثال

شاھنواز چاچڑ

صوبہ بلوچستان صلع لسبیلا کا شہر دریجی شاید آپ نے کبھی کہیں اس شہر کا نام سنا ہو، یہ پانچ سو گھروں پر مشتمل ایک چھوٹا سا شہر ہے، دریجی اپنے موسم، خوبصورتی، صفائی اور وہان پر کیے گئے ترقیاتی کاموں کی وجہ سے مشہور ہے، دریجی کو اگر چھوٹا اسلام آباد کہا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ لیکن آج کا ہمارا موضوع یہان کے نظام، ترقیاتی کام اور امن و امان کے بارے میں جاننا ہے۔ دریجی وہ شہر ہے جہاں سالوں تک لوگ کسی جرم کی واردات کی خبر تک نہیں سنتے، اس چھوٹے سے شہر کی سڑکیں آپ کو اسلام آباد کا نظارا دین گی۔

گھروں پر مشتمل ایک چھوٹا سا شہر ہے، دریجی اپنے موسم، خوبصورتی، صفائی اور وہان پر کیے گئے ترقیاتی کاموں کی وجہ سے مشہور ہے، دریجی کو اگر چھوٹا اسلام آباد کہا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ لیکن آج کا ہمارا موضوع یہان کے نظام، ترقیاتی کام اور امن و امان کے بارے میں جاننا ہے۔ دریجی وہ شہر ہے جہاں سالوں تک لوگ کسی جرم کی واردات کی خبر تک نہیں سنتے، اس چھوٹے سے شہر کی سڑکیں آپ کو اسلام آباد کا نظارا دین گی۔

دریجی شہر کا داخلی راستہ

گھروں پر مشتمل ایک چھوٹا سا شہر ہے، دریجی اپنے موسم، خوبصورتی، صفائی اور وہان پر کیے گئے ترقیاتی کاموں کی وجہ سے مشہور ہے، دریجی کو اگر چھوٹا اسلام آباد کہا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ لیکن آج کا ہمارا موضوع یہان کے نظام، ترقیاتی کام اور امن و امان کے بارے میں جاننا ہے۔ دریجی وہ شہر ہے جہاں سالوں تک لوگ کسی جرم کی واردات کی خبر تک نہیں سنتے، اس چھوٹے سے شہر کی سڑکیں آپ کو اسلام آباد کا نظارا دین گی۔

گئے ترقیاتی کاموں کی وجہ سے مشہور ہے، دریجی کو اگر چھوٹا اسلام آباد کہا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ لیکن آج کا ہمارا موضوع یہان کے نظام، ترقیاتی کام اور امن و امان کے بارے میں جاننا ہے۔ دریجی وہ شہر ہے جہاں سالوں تک لوگ کسی جرم کی واردات کی خبر تک نہیں سنتے، اس چھوٹے سے شہر کی سڑکیں آپ کو اسلام آباد کا نظارا دین گی۔

متعدد مرتبہ علاقے سے ممبر قومی و صوبائی منتخب ہونے وا والے ایم این اے اسلم بھوتانی دریجی کے بارے کہتے ہیں یہاں پر جس مقصد کے لئے جو فنڈ آیا تھا وہ استعمال کیا گیا ہم نے یہاں پر رہنے کی مناسب سہولیات دینے کی کوشش کی ہے، جیسا کہ پینے کے پانی کی سہولت، گھروں کی چاردیواری، گندگی سے بچائو کے انتظامات اور صحت کی مناسب سہولیات اور بجلی۔ بچوں کی تفریح کے لیے دریجی میں باقاعدہ  فنکشنل پارک قائم کیے گئے ہیں جس میں مقامی بچے روزانہ اپنے کھیلوں کے لیئے استعمال کرتے ہیں، اس کے علاوہ شہر میں بھی ہرن اور مارخور نظر آئیں گے کیونکہ علاقے میں شکار پر مکمل پابندی عائد ہے یہاں کی آب و ہوا صاف ہے، یہان پر ہیلتھ سینٹر، اسکول کالج نہ صرف قائم کیے گئے بلکہ یہ ادارے اپنی پوری صلاحیت سے اپنے فرائز سرانجام دے رہے ہیں۔ یہاں گے لوگوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ہم نے اپنی سیاست کا فرض اسی میں سمجھا کہ جس مد  جو فنڈز آئیں ان کا استئمال بھی اسی مد  پر خرچ کیا گیا علاقے کے کی  لوکل کمیونٹی کی مدد سے پروجیکٹ بنائے گئے جو ابھی تک کامیابی سے چلائے جارہے ہیں، علاقے میں صفائی کی صورتحال پورے ملک سے آپ کو یکسر مختلف نظر آئے گی۔

بازار کی طرف جانے والی سڑک

دریجی میں موجود لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے سیاح یاسر ناریجو کہا کہ دریجی ایک خواب جیسی بستی ہے، یہاں کے لوگ ایسی چین کی زندگی گزارتے ہیں اس جیسا شاید ہم اپنے شہروں میں تصور بھی نہیں کرتے، جیسا کہ پورے سال میں شہر میں کوئی ایسا مسئلا پیش نہ آیا ہو جس کے لیے انہیں پولیس کو بلانا پڑے۔ دریجی بلوچستان کی ایک ایسی بستی ہے جس میں لوگوں کے شراکتی عمل سے ایک مثالی امن و امان کا نظام چل رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر پاکستان کے دیہی علاقوں کی ترقی پر کام کرنے والے لوگ یا طالب علم دریجی کے ماڈل کو دیکھیں تو انکو بہت سارے پہلو ملیں گے جو پاکستان کے دوسرے علاقوں میں لوگوں کی زندگیاں آسان کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

دریجی  میں  کوئٹہ کے رہائشی اچھی وقار احمد کا کہنا ہے کہ علاقے کے لوگ مختلف قبائل پر مشتمل ہونے اور  مختلف زبانیں بولنے کے باوجود آپس میں بہی چار کا بھائی چارہ قائم کیے ہوئے ہیں یہاں کے لوگ مہمان نواز اور ملنسار ہیں یہاں پر میں نے کھبی پولیس کو روڈوں کھومتے نہیں دیکھا وقار احمد نے کہا کہ جب میں میں شروع شروع میں یہاں ہاں ذمہ داریاں سنبھالنے کے لئے آیا یا تو میں میں دریجی دیکھ کے کے کافی پریشان ہوگیا مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ علاقہ بھی بلوچستان میں ہے یا پاکستان سے باہر کسی ملک کی جگہ ہے جہاں پر میں آگیا ہوں ہو روڈ پر اکثروبیشتر چلتے ہوئے یے ہیں رن ابن عمار فور اور دیکھنا نا ایک منفرد نظارہ ہوتا ہے ہے جوکہ کے ہم پاکستان میں رہ کر سوچ بھی نہیں سکتے تے یہ شہر اس طریقے سے بنایا گیا ہے ہے یہاں کی آب و ہوا صفائی ای دنیا کے کسی بھی مثالی معاشرے کے مقابلے میں میں کم نہیں نہیں جگہ جگہ جگہ کچرا پھینکنے کے لیے ٹیسٹ بھی بھی صاف ستھرا ماحول اور نہ کبھی بجلی بجلی کا مسئلہ بنا یہاں پر پر پر اور نہ کبھی پانی کی کمی میں دیکھی نہ پانی کے حصول کے لیے  لائنیں روڑ پر نظر نہیں آئیں

ضلع لسبیلہ کے امن وامان کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے ہوئے ایس ایس پی محمد رمضان نے کہا کہ ضلع کے مثالی امن میں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا کردار بہت اہم ہے امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے شب و روز کاوشیں کی جاتی ہیں ماضی کے مقابلے میں آج فورسز میں باہمی روابط  مضبوط طریقے سے کام کر رہا ہے دہشت گردی کی حالیہ جنگ کسی حد تک لسبیلہ متاثر ہوا تھا تاہم ہمارے پاس اب کافی وسائل ہیں اب ضلع میں پولیس کے ساتھ ساتھ ایگل سکوارڈ ہارٹ آر جی اے ٹی ایف لیویز بی سی اور ایف سی کے اہلکار کار امن وامان برقرار رکھنے کے لئے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دریجی میں امن و امان کی بہتر صورتحال میں وہاں کے لوگوں کا مجموعی کردار ہے، اور دریجی بلوچستان میں ایک مثالی شہر ہے جہان لوگ امن و سکون کی زندگی گذارتے ہیں۔

بلوچستان کی عوام اور معلومات تک رسائی کا قانون۔

جمہوری طرز حکمرانی میں معلومات تک رسائی کے قوانین حکومتی اقدامات کی شفافیت کو یقینی بناتے ہیں۔ ان قوانین کی مدد سے شہری حکومتی اداروں سے معلومات طلب کر سکتے ہیں، اب تک پوری دنیا کے 100سے زیادہ ممالک نے معلومات تک رسائی کے قوانین کا نفاذ کیا ہے، پاکسان میں بھی وفاقی اور چاروں صوبائی قانون ساز اسیمبلیوں نے عوام کی معلومات تک رسائی کے قوانین منظور کیے ہیں، لیکن اب بھی شہریوں کو معلومات تک رسائی میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بلوچستان ھائی کورٹ کے وکیل اور کوئٹہ کے شہری ایڈوکیٹ یاسر خان لودہی نے کہا، “معلومات تک رسائی کے ان قوانین کے تحت کوئی بھی شہری تحریری طور پر سرکاری معلومات حاصل کرنے کی درخواست دے سکتا ہے جس پر متعلقہ حکام کو ۱۴ روز میں جواب دینا ہوتا ہے۔ اگر درکار معلومات کو جمع کرنے میں وقت صرف ہونا ہو تو متعلقہ حکام درخواست موصول ہونے کے 20 روز کے اندر اندر اس کا جواب دینے کے پابند ہوں گے۔ اگر متعلقہ حکام معلومات دینے سے انکار کرتے ہیں تو درخواست گذار شہری اس کے خلاف وفاقی یا صوبائی محتسب کے دفتر میں اپیل دائر کر سکتا ہے جس میں حکام کو معلومات فراہم نہ کرنے کی وجوہات بتانا ہوں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ۔ جب عام شہری حکومت سے سوال کرتے ہیں تو حکومت اپنے آپ کو عوام کے آگے جوابدہ  سمجھتی ہے اور اس کی کارکردگی میں بہتری آتی ہے۔کسی بھی سرکاری ادارے سے مانگی جانے والی معلومات ایسی نہیں ہونی چاہئیں جو قومی سلامتی، دوست ممالک کے ساتھ تعلقات، کسی کی نجی زندگی یا خاندان کے لیے نقصان دہ ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ۔ “ہمارے ملک میں رائج معلومات تک رسائی کے قوانین کے تحت کوئی بھی شہری سرکاری دستاویزات جیسے ریکارڈ، میمو، معاہدہ نقشہ، سرکلر، اکاؤنٹینسی، پریس ریلیز، رپورٹ، کتابچے، الیکٹرانک معلومات ای میلز، رپورٹ کسی بھی دستاویز کی سی ڈی، آڈیو ویڈیو سرکاری ریکارڈنگ، اعلانات، تصاویر، نیوز کٹنگ حاصل کر سکتا ہے۔”

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان سماجی ورکر کبیر جان کاکڑ کے مطابق “بلوچستان میں کسی سرکاری محکمے سے مطلوبہ معلومات حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں، عام طور پر سرکاری دفاتر کے ملازم بھی معلومات تک رسائی کے قانون کے بارے میں نہیں جانتے، اور نہ ہی عام شہریوں کو سرکاری دفاتر سے معلومات حاصل کرنے کے طریقہ کار کا علم ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ، حکومت کو چاہیے کہ رائیٹ ٹو انفارمشن جیسے قوانین کی آگاہی کے لیے اقدامات کرے تاکہ عام شہری بھی حکومتی کی طرف سے ان کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں جان سکیں۔

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سماجی ورکر راجا وسیم نے کہا “حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ بلکل واضح ہےکہ کوئی بھی حکومت اپنا احتساب نہیں چاہتی. مگر دوسری طرف عوام کی عدم دلچسپی ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ ‘معلومات کی آزادی’ ہمارا قانونی حق ہے اور جو لوگ یہ جانتے ہیں، ان میں سے بیشتر کو معلومات تک رسائی کا صحیح طریقےکار معلوم نہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ، “قانونسازی کے ساتھ ساتھ ان قوانین پر عوامی آگاہی بھی حکومت کا فرض ہے، اور حکومتی اداروں کو چاہیے کہ وہ مقامی غیر سرکاری تنظیموں اور شہریوں کی دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر بنیادی سطح پر عوام میں قانونی آگاہی بڑہانے کے اقدامات کریں۔

بلوچستان سے تعلق رکہنے والے ایک سماجی ورکر عرفان بنگلزئی نے کہا، “معلومات تک رسائی سمیت تمام بنیادی حقوق کی آگاہی ہمیں بچوں کو اسکول کی سطح پر دینی چاہیے، حکومت کو چاہیے، بچوں کے تعلیمی نساب میں شہریوں کے بنیادی حقوق کا باب شامل کرے اور ایسا کرنا ہمارے لیے اپنا بہتر کل بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

شہری معلومات کی درخواستیں ای میل، فیکس یا خط کے ذریعے متعلقہ سرکاری اداروں کو بھیجی جا سکتی ہیں۔ اس درخواست کی کوئی فیس نہیں ہے اور طلب کی گئی دستاویزات کے پہلے بیس صفحے بھی مفت فراہم کیے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان اسمبلی نے 2005 میں معلومات تک رسائی کا قانون نافذ کیا تھا،  لیکن ان پر تاحال نہ تو عملدرآمد ہو سکا ہے اور نہ ہی ان قوانین سے عوام کو کوئی ریلیف مل پایا ہے۔ اس حوالےسے حکومت پر میڈیا، خاص کر سوشل میڈیا پر کافی دباؤ رہا ہے۔

رکن بلوچستان اسمبلی بشرا رند نے کہا “ہر جمہوری معاشرے کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ ریاست کے معاملات سے اپنے شہریوں کو مکمل آگاہ رکھے اور ریاست کے معاملات تک ان کی رسائی کو ممکن بنائے، اور موجودہ حکومت نے شہریوں کی مشکلات کو حل کرنے کے لیے کافی اقدامات کیے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ وہ دوسرے اسمبلی ممبران سے بھی اس موضوع پر بات کریں گی تاکہ حکومتی اداروں کو عوامی سطح پر معلومات تک رسائی کے قوانین کی آگاہی کے اقدامات یا شراکتیں تجویز کی جاسکیں۔

بلوچستان کی سیاست میں عورتوں کی شمولیت اور ان کے مسائل

خواتین نے دنیا کے ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ جدوجہد کرکے ثابت کیا ہے کہ ان کی شمولیت کے بغیرکوئی بھی معاشرہ ترقی کی راہ پرگامزن نہیں ہوسکتا۔ پاکستان کی سیاست کی تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے تو عورتوں کی شمولیت کوئی نئی بات نہیں، قیام پاکستان سے قبل ہی مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں نے بھہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کردیا تھا، پاکستان کو بنے ستر سال گزرگئے لیکن اب بھی عورتوں کے لیے سیاسی و سماجی برابری ایک بہت بڑا سوال ہے۔ خواتین کیخلاف جرائم میں اضافے،عورت کے حقوق کیلئے قانون سازی پر عملدرآمد کیلئے باقاعدہ نظام موجود نہ ہونے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں خواتین کی تعداد کم ہونے کے باعث عام عورتوں کی انصاف تک رسائی مشکلات کا شکار ہے،

کوئتہ سے تعلق رکھنے والی سیاسی و سماجی ورکر ڈاکٹر ارم ملک نے بتایا کہ” بلوچستان میں خواتین کو تشدد سمیت مختلف سنگین مسائل کا سامنا رہا ہے اور عورتوں کے حقوق کے حوالے سے خاطر خواہ بہتری نہیں آئی، خواتین ارکان قانون سازی میں کوئی نمایاں کردار ادا کرنے کے بجائے زیادہ تر رائے شماری میں تعداد پوری کرنے کی حد تک قانون سازی کے عمل میں شریک ہوتی رہی ہیں۔” انہوں نے مزید بتایا کہ “یہان پر آپ کوبہترین لیڈی ڈاکٹر‘ بہترین خاتون وکیل‘ بہترین خاتون آرٹسٹ، اعلیٰ پائے کی گلوکارہ اور کامیاب ترین خاتون پروفیشنلز کئی مل جائیں گی جن کا تعلق مختلف قبیلوں‘ مختلف برادریوں اور خاندانوں سے ہو گا جو اس معاشرے میں عزت کی نگاہ سے بھی دیکھی جاتی ہین، لیکن جب ہم سیاست کی بات کرتے ہیں تو ہمارے ذہنوں میں چند مخصوص گھرانوں کی خواتین کے نام ہی زیر گردش رہتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ “گھریلو تشدد، وراثت، غیرت کے نام پر قتل ، کم عمری کی شادیاں ، ان سب امور سے متعلق قانون سازی کی گئی ہے، مگر ابھی تک عام عورت کیخلاف جرائم، تشدد، ہراسمنٹ کی روک تھام اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے ہونے والی قانون سازی پرعملدرآمد میں بہتری نہیں آسکی۔

بلوچستان میں عورتوں کے حقوق پر کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کی رکن رفعت پرویز نے کہا کہ” قیام پاکستان کے وقت ہی سے سیاسی پارٹیوں اور قانون ساز اداروں میں خواتین کی معمولی نمائندگی اور عدم شرکت کی وجہ سے انکے لئے مخصوص نشستوں کا نظام رائج رہا۔ پاکستان کے 1962 -1956ء اور 1973ء کے آئین میں ملک کی خواتین کیلئے مخصوص نشستیں رکھی جاتی رہیں مگر یہ صرف آٹے میں نمک کے برابر تھیں

انہوں نے مزید کہا “بلوچستان کی سیاست میں عورتوں کی شمولیت اب بھی ایک بڑا سوال ہے، ہمیں عورتوں کے بہتر مستقبل اور معاشرے کی بہتری کے لیے ملکی اور لوکل سطح پر سیاست میں عورتوں کو برابری کا درجہ دینا چاہیے، اور ہماری خواتین اپنی خانگی ذمہ داریوں کے تقاضے پورے کرنے کے بعد وہ نہ صرف معاشی بلکہ سیاسی جدوجہد میں بھی اپنے حالات، ذوق اور رجحان کے مطابق حصہ لے سکتی ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر ہمارے ملک کا نام روشن ہوگا۔

بلوچستان اسمبلی کی سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر رقیا ہاشمی نے بتایا کہ: بلوچستان میں خواتین کے حقوق کے لیے کی جانے والی قانون سازی ہمیشہ سے ایک مشکل مرحلہ رہی ہے اور اس کی سب سے بنیادی وجہ صوبہ کی سیاست میں عورتوں کی کم شمولیت رہی ہے۔  عورتوں کے لیے مخصوص نشستوں میں اضافے کے باوجود عورتوں کی سیاسی حیثیت میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آ سکی۔ روایتی طور پر قانون ساز اسمبلیوں اور شعبۂ قانون پر مردوں کی اجارہ داری رہی ہے، لیکن عورتوں کی مسلسل جدوجہد اور مشکل حالات میں بھی سیاسی عمل میں شرکت نے مردوں کے رویہ میں اس قدر تبدیلی لائی ہے ہے کہ ماضی کے مقابلے میں خواتین کی آواز قدرے سنجیدگی سے سنی جانے لگی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ، ملک کی سیاست میں عورتوں کی حقیقی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے ہمیں ملک کر کام کرنا پڑے گا، اور اس میں ملک کی چھوٹی بڑی سیاسی پارٹیاں بہت اہم کردار ہے۔ عورت کو حقوق اس وقت تک نہیں ملیں گے جب تک وہ شعور کی آنکھ کھول کر کسی اجتماعیت کے پلیٹ فارم سے عملی جدوجہد نہیں کریگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ، “صوبہ بلوچستان میں خواتین ووٹرز کی تعداد اٹھارہ لاکھ تیرہ ہزار کے قریب ہے لیکن صوبے کے بیشتر اضلاع میں کہیں روایات تو کہیں مذہب کے نام پر انکے ووٹ ڈالنے کی شرح نہ ہونے کے برابر تھی” انہوں نے مزید کہا کہ ” قانون سازی کے ساتھ ساتھ عورتوں کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں بھی خواتین آفیسرز کی تعدادمیں اضافہ بہت ضروری ہے۔”

قلات کے خصوصی افراد تعلیم سے محروم کیوں؟

یوسف عجب

ان والدین کے لیے عموما یہ فکر اور درد قابل برداشت نہیں ہوتی جب ان کے اولاد کسی معذوری کے ساتھ جنم لیتے ہیں کیونکہ یہ فکر وقتی نہیں ہوتی بلکہ ایک طویل عرصے تک یا تا دم مرگ ساتھ رہتی ہے۔ والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے فکرمند ہوتے ہیں کیونکہ ان کو ہروقت کسی نہ کسی طرح مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور خاص طور پر ان کا ذریعہ معاش ایک اہم مسلہ ہوتا ہے۔

یہی غم ان دنوں قلات کے ۴۰ سالہ سکند ر خان کو کھائے جارہا ہے۔ سکندر خان کے دو بچے ہیں اور دونوں ہی پیدائشی معذور ہیں اور چلنے پھرنے سے محروم ہیں ۔ ۱۲سالہ دلاور خان اور۱۵ سالہ محمد آصف بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ اپنے مزدور پیشہ والد کے لیے فکر کا سامان بنتے جارہے ہیں ۔ سکندر خان کا کہنا ہے : ” میں اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے پریشان ہوں کیونکہ ان کے ہم عمر بچے ان دنوں سکولوں میں پڑھتے ہیں اور میں تو ان کو پڑھا بھی نہیں سکتا ۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ عام بچوں کے درمیان ان کا پڑھنا یا کچھ سیکھنا مشکل ہوگا۔ اگر قلات میں معذور افراد کے لیے کوئی خاص اسکول ہوتا تو میں ضرور ان کو وہاں لے جاتا یا ان کو کوئی ہنر حاصل کرنے کا موقع دیتا”
سکندر خان کا کہنا تھا کہ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ ا ن کی ضروریات بھی بڑھتی جائینگی۔ علم حاصل کرنے یا کوئی ہنر سیکھنے کی صورت میں گو کہ وہ کسی کی مدد کے منتظر ہوتے ہیں مگر اس قابل تو ہونگے کہ ذریعہ معاش کے لیے وہ کسی کے محتاج نہ ہوں۔

یہ مسلہ صرف قلات میں نہیں بلکہ عموما بلوچستان کے تمام اضلاع میں یہی حال ہے جہاں معذور بچوں کے والدین اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے پریشانی کا شکار ہیں۔ اب تک صرف کوئٹہ میں دو ، ضلع سبی میں ایک اور ضلع مستونگ میں صرف ایک اسپیشل سکول ہے جن میں مخصوص افراد کو تعلیم دی جاتی ہے مگر بلوچستان کے دیگر اضلاع میں یہ سہولت موجود نہیں ہے۔

محکمہ سماجی بہبود ضلع قلات کے آفیسر محمد اقبال بلوچ کے مطابق اس وقت ضلع قلات میں ۴۰۰ سے زیادہ معذور افراد رجسٹرڈ ہیں مگر دیگر بہت سے ایسے ہیں جن کی اب تک ہم ہمارے آفس تک رسائی ممکن نہیں ہوسکی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ معذوروں کی ایک بڑی تعداد کا تعلق قلات شہر سے ہے مگر ان کے تعلیم و تربیت کے لیے نہ ہی کوئی سکول ہے اور نہ ہی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ضلع قلات کے ایک تحصیل خالق آباد کے لیے تین سال قبل ایک خصوصی سکول کی منظوری ہوئی تھی مگر تاحال اس پر حکومت کی طرف سے کو ئی عمل نہیں ہوسکا۔

ضلع قلات میں معذور افراد کے فلاح وبہبود کے لیے کوشاں تنظیم گندار سوشل ڈیولپمنٹ کے صدر موسی خان مینگل نے بتایا کہ خصوصی افراد کو معاشرے اور حکومت کی خصوصی توجہ درکار ہے ان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس سے وہ مزید مایوسی اور محتاجی کا شکار ہونگے۔ موسی خان مینگل نے مزید بتایا کہ نہ صرف قلات بلکہ بلوچستان کے تمام اضلاع میں سینکڑوں خصوصی افراد کے لیے کوئی خاطر خواہ توجہ ، امداد اور تعلیم یا ہنر حاصل کرنے کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگر حکومت کی جانب سے خصوصی توجہ دی جائے تو یقیناً معذور افراد معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

انجمن معذوران قلات کے جنرل سیکرٹری سفر خان نے کہا کہ روزگار اور تعلیم کی کمی کی وجہ سے جس طرح عام لوگ مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں اسی طرح یہ معذور افراد بھی معاشرے کا حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ مایوس ہوکر منشیات یا کسی اور برائی کی طرف راغب ہوسکتے ہیں۔

قلات میں معذورں کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مزید بتایا کہ معذور افراد مدارس یا سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل نہیں کرسکتے کیونکہ ان کو ایک مخصوص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اور ان کو نفسیاتی مسائل کا سامنا بھی ہوتا ہے جس کے لیے ان کو ایک مخصوص تعلیم یا تربیت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ سب ایک عام استاد کے بس کی بات نہیں۔ ان کے مطابق گذشتہ حکومتیں معذور افراد کو کسی نہ کسی طرح سے نظر انداز کرتی رہی ہیں نہ صرف ان کے فلاح و بہبود کے لیے کوئی کام کیا ہے اور نہ ہی ان کے تعلیم اور ملازمت کے لیے مختص کوٹہ پر عمل درآمد ہورہا ہے۔

ضلع قلات سے منتخب ممبر صوبائی اسمبلی اور وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا ء اللہ لانگو نے معذور افراد کے مسائل پربات کرتے ہوے کہا کہ خصوصی تعلیم معذور بچوں کا بنیادی حق ہے اور حکومت اس کی کے لیے کوشاں ہے، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت معذور افراد کے مسائل خاص کر معذور بچوں کی تعلیم کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

میر ضیا ء اللہ لانگو نے مزید بتایا کہ انہوں نے ڈپٹی کمشنرقلات سے اسی حوالے سے ملاقات کی ہے اور صوبایی حکومت نہ صرف معذور بچوں کی بنیادی تعلیم بلکہ معذور نوجوانوں کے لیے ہنر سیکھنے ان کے روزگار کے حصول کے لیے بھی کوششیں کر رہی ہے، بہت جلد ضلع کے معذور افراد کے لیے وہیل چیئر بھی دیے جائینگے۔ قلات میں حکومت کی طرف سے منظور شدہ اسپیشل اسکول پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ۲۰۱۹ کی بجٹ میں اس اسکول کے لیے فنڈز مختص کروانے میں اپنا کردار ادا کریں کے گے تاکہ معذور بچے تعلیم حاصل کرکے معاشرے پر بوجھ بننے کے بجائے معاشرے کے تعمیر اور ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔

پاکستان میں سرکاری اور نجی دفاتر کی رسائی میں معذور افراد کے مسائل

پاکستان کے سرکاری اور نجی دفاتر کی عمارتوں میں معذور افراد کے آنے اور جانے کی مناسب سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ان کو دفاتر میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ملک میں معذور افراد کو کئی طرح کی سماجی اور معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں ان کو سرکاری اور نجی دفاتر میں کسی کام سے آنے کےلیے دفاتر میں داخل ہونے کےلیے ان کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں معذور افراد کو ہر طرح کی سہولت مہیا کی جاتی ہے اور سرکاری و نجی دفاتر کی عمارتوں میں آنے جانے کےلیے ایک الگ راستہ متعن کیا جاتا ہے جن کا استعمال کرکے وہ آسانی سے ان عمارتوں میں آکر اپنا کام کر سکتے ہیں۔

حالانکہ پاکستان میں کسی بھی شہر میں شاید ہی کوئی ایسی عمارت ملے گی جہاں معذورد افراد کےلیے الگ سے کوئی مناسب راستہ تیار کیا گیا ہو، ہسپتالوں اور سکولوں میں بھی یہ سہولت میسر نہیں ہے۔

پاکستان کے آئین میں معذور افراد وہ تمام حقوق دیے گئے ہیں جو کسی عام آدمی کو ہیں لیکن قانون پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے معذور مشکلات کا شکار ہیں۔

معذوروں کے حقوق کےلیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس پر کئی بار آواز اٹھایا ہے اور ملک کے بڑے شہروں میں متعدد بار مظاہرے بھی کر چکی ہیں۔

کوئٹہ میں رہائش پذیر معذور افراد نے بتایا ہے انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی ہمت نہیں ہاری ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں پہنچنے کی کوشش کی ہے۔

کوئٹہ میں رہنے والے ایک معذور شخص صبور احمد کاسی نے کہا، “ایک تو اکثر سرکاری اور نجی دفاتر کی عمارتوں، ہسپتالوں اور بڑے بڑے سکولز میں ہمارے لیے خاص راستے نہیں بنائے گئے ہیں اور نہ ہی ہمارے لیے کوئی خاص ہدایات دی گئی ہوتی ہیں”۔

ان کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک میں معذور افراد کو ترجیحی بنیادوں پر سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں معذور فرد کو خاص شخص سمجھ کر ان کی مدد کی جاتی ہے لیکن ہمارے ملک ملک میں معذوروں کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق جن سرکاری یا نجی عمارتوں یا ہسپتالوں میں معذور افراد کےلیے جو خاص راستے تیار کیے گئے ہیں وہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق نہیں ہیں اور معذور افراد کو استعمال کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیرون ملک معذور افراد کےلیے خاص قسم کے ٹوائلٹ یا واش روم تیار کیے جاتے ہیں کیونکہ معذورد افراد عام استعمال میں آنے والے واش روم استعمال نہیں کر پاتے ہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرکاری اور نجی عمارتوں میں معذور افراد کے آنے اور جانے کےلیے راستے بنانے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے الگ پبلک ٹوائلٹ بنانے کا بھی بندوبست کیا جائے۔

کوئٹہ کی ہی رہائشی زرغونہ ودود نے کہا کہ کسی کام سے سرکاری یا نجی دفتر میں جاتی ہیں تو عمارت میں داخلے کےلیے مناست راستہ نہیں ہوتا ہے جس کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پرٹا ہے اور اکثر اوقات کام کیے بغیر چلے جاتے ہیں۔

سرکاری عملداروں کا کہنا ہے کہ حکومت معذور افراد کے حقوق سے بخوبی واقف ہے اور تمام سرکاری عمارتوں میں معذور افراد کے آنے جانے کےلیے راستہ بنانے کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

معذور افراد کے حقوق کےلیے کام کرنے والی ایک تنظیم کے رکن جھانگیر ترین نے کہا کہ انہوں نے بلوچستان میں سماجی بہبود کے محکمے اور اپم پی ایز سے مل کر دو ہزار سترہ میں بلوچستان اسیمبلی سے معذور افراد کے حقوق کےلیے ایک بل پاس کروایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے تمام محکموں کو معذور افراد کےلیے سرکاری عمارتوں میں خاص راستے تیار کرنے کو یقینی بنایا ہے اور اس کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ برس بلوچستان کے وزیرا علی نے بھی تمام محکموں کو عمارتوں میں معذور افراد کےلیے الگ راستہ تیار کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن جن نئی بننے والی عمارتوں میں جو راستے تیار کیے گئے ہیں ان بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہیں۔

بلوچستان کے محکمہ سماجی بہبود کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شیر احمد بلوچ نے کہ کہا حکومت معذور افراد کے لیے حقوق کےلیے کوشاں ہیں اور اس سلسلے میں بلوچستان اسیمبلی سے بل بھی پاس کروایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں کسی بھی حکومت نے اس طرف دھیان نہیں دیا اس لیے معذورد افراد کی فلاح و بہبود کےلیے کام نہیں ہوا۔

ان کے مطابق اب معذور افراد کی فلاح و بہبود کےلئے قانونسازی ہوئی ہے اور وزیر اعلیٰ نے تمام محکموں کو احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں تاکہ تمام سرکاری عمارتوں میں معذور افراد کی سہولت کےلیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل سپریم کورٹ نے نابینا افراد کے مظاہروں اور لاہور میں دھرنے کے بعد سوموٹو نوٹس لیا تھا اور وفاق سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز سے ملک بھر میں معذور افراد کی کل تعداد اور سرکاری ملازمتوں میں نابینا افراد سے متعلق اعداد و شمار طلب کیے تھے۔ عدالت نے معذور افراد کو تمام حقوق دینے کا فوری حکم بھی دیا تھا۔

حکومتی کاموں پر نظر رکھنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت

قدیر رند، کوئٹہ بلوچستان

بلوچستان میں جدیدٹیکنالوجی سے خاطر خواہ استفادہ نہ کرنے اور قانون میں موجود خامیوں اور کمزوریوں کے باعث شہریوں کو حکومتی امور، ترقیاتی منصوبوں اور ان پر پیشرفت سے متعلق بروقت آگاہی نہیں مل رہی ، صوبائی محکمے احتساب کے خوف سے اپنا نظام جدید خطوط پر استوار کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں ، ماہرین کے مطابق حکومت کو اپنی کارکردگی اور مفاد عامہ کے منصوبوں کو عوام کے سامنے پیش کرنا چاہئے جس کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے ۔

بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈمنیجمنٹ سائنسزکے فیکلٹی کو آرڈینیٹر ڈاکٹر ندیم کے مطابق بلوچستان میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی موجودہ صورتحال بہت تشویشناک ہے، حکومت کی جانب سے دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں مگر محکموں میں شہریوں کیلئے ون ونڈو آپریشن کی سہولت بھی دستیاب نہیں ،بنیادی فارمز جو کہیں جمع کرائے جا سکیں وہ ان ویب سائٹس پر نہیں ملتے،اگر یہ چیزیں آن لائن دستیاب ہوں تو ایک بنیادی مقصد پورا ہوگا،جہاں تک شفافیت کی بات ہے تویہ بہت لمبا سفر ہے اگر حکومت کسی اور ملک کا ماڈل فالو کرے تو اس سے بھی مدد لی جا سکتی ہے، وسط ایشیائی ممالک نے اس سلسلے میں کافی ترقی کی ہے،وہاں ٹریفک چالان سے لیکر شہریوں کی تمام بنیادی معلومات سب ایک دوسرے سے منسلک ہیں ،ہمارے ہاں پالیسی میں تسلسل کا فقدان ہے، بلوچستان میں طویل عرصے بعد مائننگ پالیسی بنی ہے جسے بہت پہلے بننا چاہئے تھا،تاہم تھوڑا بہت کام ہو رہا ہے، بلوچستان پولیس جدید سی آئی ٹی بی ماڈل کے حصول کیلئے پنجاب سے رابطے میں ہے یہ ایک اچھی پیشرفت ہو سکتی ہے،حکومت آئی ٹی کے مختلف منصبوں کیلئے ہماری یونیورسٹی سے مدد لینے کیلئے رابطہ کرتی ہے اور ہم اس پر کام کر کے انہیں رسپانس بھی دیتے ہیں مگرآگے ہ میں اس پر زیادہ مثبت کام نظر نہیں آتا،شہریوں کو سروسز فراہم کرنیوالے محکموں کو اب ڈیجیٹلائز کیا جانا ضروری ہے تاکہ شہری مختلف محکموں کے چکر کاٹنے سے بچ سکیں اور انہیں آن لائن سہولیات ملیں۔

آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ حکومت بلوچستان کے ڈائریکٹر ٹریننگ جواد احمد نے بتایا کہ موجودہ دور میں حکومتیں انفارمیشن ٹیکنالوجی پر انحصار کر رہی ہیں کیونکہ پرانے طریقہ کار سے اب کوئی فیصلہ سازی یا ترقی نہیں کی جا سکتی، آئی ٹی اب ایک بنیادی ضرورت ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ذاتی دلچسپی ہے کہ تمام محکمواں میں کمپیوٹرائزڈ نظام لایا جائے،خاص طور پر حکومت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے محکمہ پی اینڈ ڈی میں یہ نظام نا گزیر ہے تاکہ تمام ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت آ سکے،انکے مطابق بلوچستان میں راءٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ تاحال نافذ نہیں ہو سکاتاہم حکومت نے اپنا ایک ویب پورٹل بنا رکھا ہے جس پر تما م محکموں کی بنیادی اور اہم معلومات دستیاب ہیں مگر محکموں کے اندر جو تفصیلات ہیں انہیں شیئر کرنے کا سلسلہ ابھی تک شروع نہیں ہو سکا اب اس سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب اور کے پی کے میں حکومت کی جانب سے اپنے ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات متواتر اپنی ویب ساءٹس پر اپ لوڈ کی جاتی ہیں تاہم بلوچستان میں یہ سلسلہ ابھی تک شروع نہیں ہو سکا،بد قسمتی سے ہمارے محکمے آئی ٹی کو اپنانے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں ظاہر سی بات ہے جب تمام معلومات عوام کے سامنے آئیں گی تومحکمہ بھی(accountable) ہو جائیگا ،جس کا خوف محکموں میں بہرحال موجود ہے،مگر وزیر اعلیٰ بلوچستان یہ چاہتے ہیں کہ تمام محکموں کا نظام کمپیوٹرائزڈ ہو تاکہ شفافیت آسکے ۔

اس سلسلے میں سینئر قانون دان راحب بلیدی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ حکومتی امور اور ترقیاتی منصوبوں کی تما م تفصیلات (public document)عوامی دستاویز ہوتی ہیں ، کوئی بھی شہری یہ معلومات ایک سادہ درخواست کے ذریعے حاصل کر سکتا ہے اور محکمے اس کے پابند بھی ہیں ،اگر وہ ایسا نہ کریں تو اسکے خلاف عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے،راءٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے علاوہ قانون شہادت کے تحت بھی شہریوں کو معلومات کے حصول کا حق حاصل ہے ۔ اس سلسلے میں حکومت کو ازخود تمام منصوبوں کی تفصیلات پرنٹ ، الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا یا آفیشل ویب ساءٹس کے ذریعے عوام کیلئے جاری کرنی چاہئیں ۔

سٹیزن رائٹس کیلئے کام کرنیوالے سوشل ایکٹوسٹ بہرام لہڑی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کمزور شکل میں نافذ ہے جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اس میں کئی اصلاحات کی گئی ہیں جہاں حکومتی اقدامات اور مفاد عامہ کے منصوبوں کو گاہے بگاہے عوام کی معلومات کیلئے ویب سائٹس پر اپ لوڈ اور دفاتر میں آویزاں کیا جاتا ہے، ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ قانون کا ہے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ 2005کے ایکٹ میں ترامیم اور اصلاحات لائی جائیں جس طرح خیبر پختونخوا اور پنجاب میں 2013 میں معلومات تک رسائی کا ایکٹ لایا گیا اور2017 میں وفاقی قانون بنا اسی طرز پر بلوچستان میں بھی قانون سازی ہو ،2005کا ایکٹ جو بلوچستان میں فریڈم آف انفارمیشن کے نام سے نافذ ہے اس میں معلومات تک رسائی کا جو طریقہ کار بتایا گیا ہے اس کے خاطر خواہ نتائج برآمدنہیں ہو رہے اور کسی کو اس سلسلے میں ذمہ دار بھی نہیں بنایا گیا،اس قانون میں مسئلہ یہ ہے کہ آپ کومتعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو درخواست دینا ہوگی اگر محکمہ معلومات فراہم نہ بھی کرے تو عدالت سے رجوع کرنے پر قانون میں سزاو جزا کا تصور موجود نہیں ، محکمے کسی مخصوص مدت میں معلومات فراہم کرنے کے پابند بھی نہیں ہیں ، دوسری اہم بات یہ ہے کہ عوا م کو آگاہی دینا ضرور ی ہے، جس طرح وزیر اعظم نے سٹیزن ویب پورٹل بنایا ہے اور اس پر براہ راست شکایات موصول ہوتی ہیں ،حکومت بلوچستان کوبھی چاہئے کہ اس پر کام کرے،عوام میڈیا اور سول سوساءٹی کو وقتاًفوقتاًبریفنگ دے تاکہ عوام کو آگاہی حاصل ہو سکے کہ انکے فنڈز کہاں اور کیسے استعمال ہو رہے ہیں ۔

حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی اس حوالے سے کہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کا وژن ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کے بغیر اہداف کا حصول ممکن نہیں ، ہم کوءٹہ میں 500 ملین روپے کی لاگت سے آئی ٹی پارک اور ڈیٹا سنٹر بنا رہے ہیں ،اسکے علاوہ100 پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کو (vertical education model) پر منتقل کیا جا رہا ہے،سی ایم سیکریٹریٹ اور سول سیکریٹریٹ میں فائل ٹریکنگ سسٹم لایا جا رہا ہے،پہلی مرتبہ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کیلئے۱۔۸ بلین روپے مختص کئے گئے ہیں تاکہ جدید ٹیکنالوجی کو اپنایا جاسکے،وزیر اعلیٰ شکایت سیل کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کی شکایات براہ راست موصول ہوں ،وزیر اعلیٰ سوشل میڈیا پر بھی عوام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں ،اگر ہم نے کارکردگی دکھانی ہے اور آگے بڑھنا ہے تو ٹیکنالوجی کے تمام ذرائع کو استعمال کرنا ہوگا اس کے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکتے ۔

رکن بلوچستان اسمبلی قادر علی نائل نے سوشل میڈیا کو حکومتی کارکردگی پر نظر رکھنے کا بہترین ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں ای گورننس کا تصور فعال ہے ہر حکومت کی خواہش ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو اپناتے ہوئے دنیا تک اپنی کارکردگی پہنچائے،جہاں تک حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھنے اور ٹیکنالوجی کی بات ہے تو اس بات کا انحصار معاشرے پرہے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں اس میں تعلیم کی شرح کتنی ہے، ٹیکنالوجی کی سہولت کتنی آبادی کو حاصل ہے،دور دراز کے علاقوں میں تو یہ سہولت ہی میسر نہیں تاہم شہروں میں لوگ اس سہولت سے استفادہ کرتے ہیں ،عوامی نمائندوں کا بھی اخلاقی فرض بنتا ہے کہ وہ خود کو عوام کے سامنے احتساب کیلئے پیش کریں ،یہاں قبائلی روایات کے تحت جرگوں ،کارنر میٹنگز اور جلسوں میں نمائندے اپنی کارکردگی پیش کرتے ہیں ،میری نظر میں دور جدید میں ٹیکنالوجی خصوصاًسوشل میڈیا ایک ایسابہترین ذریعہ ہے جس سے لوگوں میں شعورآ گیا ہے اور ان کی عوامی نمائندوں تک رسائی ممکن ہو گئی ہے، سوشل میڈیا کے ذریعے ہم اپنی کارکردگی لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں اور اسی کے ذریعے عوام بھی اپنے مسائل اجاگر کرتے ہیں جس کا نوٹس لیا جاتا ہے اور ان کی داد رسی بھی کی جاتی ہے،دوسری جانب ہم اپنے ناقدین کی رائے کو بھی اہمیت دیتے ہیں اور عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،سوشل میڈیا حکومت کو الرٹ کرنے کا ذریعہ ہے تاکہ وہ کارکردگی دکھائے،جس طرح پی ایس ڈی پی اور بجٹ سوشل میڈیا اور اخبارات میں شاءع ہوتا ہے اور معاشرے کا با شعور طبقہ اس کا مطالعہ کرنے کے بعد اس پر نظر بھی رکھتا ہے کہ حکومت نے جس شعبے کیلئے فنڈز رکھے ہیں آیا اس پر کام بھی ہوا ہے یا نہیں ،ایک طرح سے یہ بھی حکومت کا احتساب ہے ۔

ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ بات اخذ کی جا سکتی ہے ٹیکنالوجی حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانے اور کامون میں شفافیت لانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ماہرین کی رائے کے مطابق رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ میں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اصلاحات ضروری ہیں تاکہ شہریوں کو اپنی حکومت پر نظر رکھنے میں مدد ملے اور حکومت بھی ایسے اقدامات کرے جن کے ذریعے شہریوں کو ان کا بنیادی حق مل سکے ۔ پنجاب اورخیبر پختونخوا میں نافذ قوانین سے استفادہ کیا جائے اور محکموں میں کمپیوٹرائزڈ نظام لایا جائے،تمام معلومات ویب سائٹس پر فراہم کی جائیں ۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی ہی ترقی کا زینہ ہے اپنے صوبے اور عوام کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے حکومت ، سول سوساءٹی سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو سوچنا ہوگا ۔