معذور افراد کو ملازمت کے حصول میں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے

پاکستان میں معذور افراد کو وہ حقوق حاصل نہیں ہیں جو دوسرےکئی ممالک میں ان کو حاصل ہیں اور دوسرے مسائل کے ساتھ ساتھ ان کو سرکاری ملازمت ملنے میں کافی دشواری پیش آتی ہیں۔

بلوچستان میں بسنے والے جسمانی طور پر معذور افراد نے اپنے حقوق کے لیے کئی بار آواز اٹھائی ہے اور ہر فورم پر اپنے جائز مطالبات متعلقہ حکام کے سامنے پش کیے ہیں لیکن ابھی تک کہیں سے بھی واضع امید نظر نہیں آ رہی ہے۔

کوئٹہ میں رہنے والی زرغونہ ودود کا کہنا ہے کہ معذور افراد کو ملازمت کے حصول میں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور حکومت کی طرف سے بھی اس سلسلے میں کوئی اقدامات اٹھائے نہیں جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا، “معذور افراد کی ملازمت کےلیے مخصوص کوٹہ بھی مختص ہے لیکن حکومت کی طرف سے اس پر علمدرآمد نہیں ہوتا ہے اور اکثر محکموں میں یہ کوٹا خالی ہی رہتا ہے۔ جتنا کوٹا ہے اس لحاظ سے تمام محکموں میں آپ کو معذور افراد نظر نہیں آئیں گے۔”

ان کے مطابق اکثر معذور افراد کو معلوم بھی ہوتا ہے کہ ان کےلیے ملازمت میں خاص کوٹا مختص ہے۔ انہوں نے مزید کہا، “اکثر معذور افراد کو ملازمت آنے کا پتا نہیں چلتا اور نہ ہی ان کو یہ پتا ہوتا ہے کہ ملازمت کےلیے درخواست فارم کہاں سے وصول کیا جاتا ہے اور پھر کہاں جمع کیا جاتا ہے۔”

واضح رہے کہ ملک بھر میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے معذور افراد کے لیے ملازمتوں میں کوٹہ مقرر ہے۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں دو فیصد، پنجاب میں تین جبکہ سندھ اور بلوچستان میں پانچ فیصد کوٹہ معذور افراد کے لیے مقرر ہے۔

چند زور قبل معذور افراد نے اسلام آباد میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور ملازمتوں میں ان کےلیے مخصوص کوٹا پر عملدرآمد کرنے کا مطالبا کیا تھا ٓ۔ گزشتہ برس سپریم کورٹ نے نابینا افراد کے مظاہروں اور لاہور میں دھرنے کے بعد سوموٹو نوٹس لیا تھا اور وفاق سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز سے ملک بھر میں معذور افراد کی کل تعداد اور سرکاری ملازمتوں میں معذور افراد سے متعلق اعداد و شمار طلب کیے تھے۔

بلوچستان میں معذور افراد کے حقوق کےلیے کام کرنے والی ایک تنظیم سے وابستہ میر بھرام لہڑی کا کہنا ہے کہ پہلے بلوچستان میں معذور افراد کی ملازمتوں میں تین فیصد کوٹا مختص تھا لیکن ان کے حقوق کےلیے کام کرنے والی تنظیموں کی کاوشوں سے ملازمتوں میں پانچ فیصد کوٹا مختص کیا گیا ہے لیکن اس پر بھی صحیع طور پر علمدرآمد نہیں ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری ملازمتوں کے اشتہارات میں معذور افراد کےلئے کوٹا کو حوالہ تو دیا جاتا ہے لیکن اس پر ایسے افراد کو بھرتی کیا جاتا ہے جو معذور کی کیٹیگری میں نہیں آتے ہیں اور ملازمتوں کے حوالے سے معذور افراد کو بری طرح نظرانداز کیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق حکومت کی ذمے داری ہے کہ معذور افراد کےلیے ملازمت کے مواقع پیدا کیے جائیں اور اشتہارات میں ان کےلیے کوٹا کا حوالہ دیا جائے اور اس پر میرٹ کی بنیاد پر معذور افراد کو بھرتی کیا جائے۔

بلوچستان کے سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر اشرف نے بتایا کہ حکومت نے معذور افراد کی ملازمتوں کےلیے پانچ فیصد کا کوٹا مختص کیا ہے اور اس پر علمدرآمد کےلیے تمام محکموں کو نوٹیفیکیشن آ چکا ہے اور اس پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر انہیں کہیں سے شکایت موصول ہوتی ہے تو اس کا فوراً ازالہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے تمام محکموں کو معذور افراد کی ملازمتوں کےلیے مخصوص کوٹا پر عملدرآمد کی ہدایت کی ہیں۔

انہوں بتایا کہ ان کے محکمے میں معذور افراد کےلیے ایک شکایتی سیل قائم کیا گیا ہے اور جس بھی فرد کو ملازمت ملنے میں دشواری یا کوئی اور مشکل پیش آتی ہے تو محمکہ اس کے حل کےلیے فوری قدم اٹھائے گا۔

ان کے مطابق حکومت معذور افراد کی فلاح و بہبود کیلئے بھرپور انداز میں کوشاں ہے اور اس نے اس ضمن میں متعدد مؤثر اقدامات کئے ہیں جن کا مقصد معذور افراد کو ایسی سہولیات فراہم کرنا ہے جن کی مدد سے وہ خود کو معاشرے کا ایک کارآمد شہری تصور کرتے ہوئے ملکی ترقی میں اپنا فعال کردار ادا کرسکیں۔

ترقی یافتہ معاشروں میں معذور افراد کو اعلیٰ درجے کی شہری سہولیات پہنچائی جاتی ہیں۔ ان کے سفر کیلئے خصوصی اقدامات کئے جاتے ہیں۔ سماجی سطح پر بھی ان افراد سے ایسا برتاؤ اور سلوک کیا جاتا ہے جو انہیں آگے بڑھنے اور اپنی صلاحیتوں کے بہترین استعمال کا بھرپور موقع فراہم کرتا ہے۔

معذور افراد کی ٍ اور ان کو سہولیات کی فراہمی میں جہاں پورے معاشرے کا اہم کردار ہوتا ہے وہاں ریاست اور حکومت پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے افراد کو ایسی سہولیات پہنچائے جو انہیں معاشرے کا کارآمد اور مفید فرد بنانے میں معاون ثابت ہوں۔

4 Replies to “معذور افراد کو ملازمت کے حصول میں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *