پاکستان میں سرکاری اور نجی دفاتر کی رسائی میں معذور افراد کے مسائل

پاکستان کے سرکاری اور نجی دفاتر کی عمارتوں میں معذور افراد کے آنے اور جانے کی مناسب سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ان کو دفاتر میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ملک میں معذور افراد کو کئی طرح کی سماجی اور معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں ان کو سرکاری اور نجی دفاتر میں کسی کام سے آنے کےلیے دفاتر میں داخل ہونے کےلیے ان کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں معذور افراد کو ہر طرح کی سہولت مہیا کی جاتی ہے اور سرکاری و نجی دفاتر کی عمارتوں میں آنے جانے کےلیے ایک الگ راستہ متعن کیا جاتا ہے جن کا استعمال کرکے وہ آسانی سے ان عمارتوں میں آکر اپنا کام کر سکتے ہیں۔

حالانکہ پاکستان میں کسی بھی شہر میں شاید ہی کوئی ایسی عمارت ملے گی جہاں معذورد افراد کےلیے الگ سے کوئی مناسب راستہ تیار کیا گیا ہو، ہسپتالوں اور سکولوں میں بھی یہ سہولت میسر نہیں ہے۔

پاکستان کے آئین میں معذور افراد وہ تمام حقوق دیے گئے ہیں جو کسی عام آدمی کو ہیں لیکن قانون پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے معذور مشکلات کا شکار ہیں۔

معذوروں کے حقوق کےلیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس پر کئی بار آواز اٹھایا ہے اور ملک کے بڑے شہروں میں متعدد بار مظاہرے بھی کر چکی ہیں۔

کوئٹہ میں رہائش پذیر معذور افراد نے بتایا ہے انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی ہمت نہیں ہاری ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں پہنچنے کی کوشش کی ہے۔

کوئٹہ میں رہنے والے ایک معذور شخص صبور احمد کاسی نے کہا، “ایک تو اکثر سرکاری اور نجی دفاتر کی عمارتوں، ہسپتالوں اور بڑے بڑے سکولز میں ہمارے لیے خاص راستے نہیں بنائے گئے ہیں اور نہ ہی ہمارے لیے کوئی خاص ہدایات دی گئی ہوتی ہیں”۔

ان کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک میں معذور افراد کو ترجیحی بنیادوں پر سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں معذور فرد کو خاص شخص سمجھ کر ان کی مدد کی جاتی ہے لیکن ہمارے ملک ملک میں معذوروں کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق جن سرکاری یا نجی عمارتوں یا ہسپتالوں میں معذور افراد کےلیے جو خاص راستے تیار کیے گئے ہیں وہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق نہیں ہیں اور معذور افراد کو استعمال کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیرون ملک معذور افراد کےلیے خاص قسم کے ٹوائلٹ یا واش روم تیار کیے جاتے ہیں کیونکہ معذورد افراد عام استعمال میں آنے والے واش روم استعمال نہیں کر پاتے ہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرکاری اور نجی عمارتوں میں معذور افراد کے آنے اور جانے کےلیے راستے بنانے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے الگ پبلک ٹوائلٹ بنانے کا بھی بندوبست کیا جائے۔

کوئٹہ کی ہی رہائشی زرغونہ ودود نے کہا کہ کسی کام سے سرکاری یا نجی دفتر میں جاتی ہیں تو عمارت میں داخلے کےلیے مناست راستہ نہیں ہوتا ہے جس کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پرٹا ہے اور اکثر اوقات کام کیے بغیر چلے جاتے ہیں۔

سرکاری عملداروں کا کہنا ہے کہ حکومت معذور افراد کے حقوق سے بخوبی واقف ہے اور تمام سرکاری عمارتوں میں معذور افراد کے آنے جانے کےلیے راستہ بنانے کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

معذور افراد کے حقوق کےلیے کام کرنے والی ایک تنظیم کے رکن جھانگیر ترین نے کہا کہ انہوں نے بلوچستان میں سماجی بہبود کے محکمے اور اپم پی ایز سے مل کر دو ہزار سترہ میں بلوچستان اسیمبلی سے معذور افراد کے حقوق کےلیے ایک بل پاس کروایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے تمام محکموں کو معذور افراد کےلیے سرکاری عمارتوں میں خاص راستے تیار کرنے کو یقینی بنایا ہے اور اس کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ برس بلوچستان کے وزیرا علی نے بھی تمام محکموں کو عمارتوں میں معذور افراد کےلیے الگ راستہ تیار کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن جن نئی بننے والی عمارتوں میں جو راستے تیار کیے گئے ہیں ان بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہیں۔

بلوچستان کے محکمہ سماجی بہبود کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شیر احمد بلوچ نے کہ کہا حکومت معذور افراد کے لیے حقوق کےلیے کوشاں ہیں اور اس سلسلے میں بلوچستان اسیمبلی سے بل بھی پاس کروایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں کسی بھی حکومت نے اس طرف دھیان نہیں دیا اس لیے معذورد افراد کی فلاح و بہبود کےلیے کام نہیں ہوا۔

ان کے مطابق اب معذور افراد کی فلاح و بہبود کےلئے قانونسازی ہوئی ہے اور وزیر اعلیٰ نے تمام محکموں کو احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں تاکہ تمام سرکاری عمارتوں میں معذور افراد کی سہولت کےلیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل سپریم کورٹ نے نابینا افراد کے مظاہروں اور لاہور میں دھرنے کے بعد سوموٹو نوٹس لیا تھا اور وفاق سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز سے ملک بھر میں معذور افراد کی کل تعداد اور سرکاری ملازمتوں میں نابینا افراد سے متعلق اعداد و شمار طلب کیے تھے۔ عدالت نے معذور افراد کو تمام حقوق دینے کا فوری حکم بھی دیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *