حکومتی کاموں پر نظر رکھنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت

قدیر رند، کوئٹہ بلوچستان

بلوچستان میں جدیدٹیکنالوجی سے خاطر خواہ استفادہ نہ کرنے اور قانون میں موجود خامیوں اور کمزوریوں کے باعث شہریوں کو حکومتی امور، ترقیاتی منصوبوں اور ان پر پیشرفت سے متعلق بروقت آگاہی نہیں مل رہی ، صوبائی محکمے احتساب کے خوف سے اپنا نظام جدید خطوط پر استوار کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں ، ماہرین کے مطابق حکومت کو اپنی کارکردگی اور مفاد عامہ کے منصوبوں کو عوام کے سامنے پیش کرنا چاہئے جس کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے ۔

بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈمنیجمنٹ سائنسزکے فیکلٹی کو آرڈینیٹر ڈاکٹر ندیم کے مطابق بلوچستان میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی موجودہ صورتحال بہت تشویشناک ہے، حکومت کی جانب سے دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں مگر محکموں میں شہریوں کیلئے ون ونڈو آپریشن کی سہولت بھی دستیاب نہیں ،بنیادی فارمز جو کہیں جمع کرائے جا سکیں وہ ان ویب سائٹس پر نہیں ملتے،اگر یہ چیزیں آن لائن دستیاب ہوں تو ایک بنیادی مقصد پورا ہوگا،جہاں تک شفافیت کی بات ہے تویہ بہت لمبا سفر ہے اگر حکومت کسی اور ملک کا ماڈل فالو کرے تو اس سے بھی مدد لی جا سکتی ہے، وسط ایشیائی ممالک نے اس سلسلے میں کافی ترقی کی ہے،وہاں ٹریفک چالان سے لیکر شہریوں کی تمام بنیادی معلومات سب ایک دوسرے سے منسلک ہیں ،ہمارے ہاں پالیسی میں تسلسل کا فقدان ہے، بلوچستان میں طویل عرصے بعد مائننگ پالیسی بنی ہے جسے بہت پہلے بننا چاہئے تھا،تاہم تھوڑا بہت کام ہو رہا ہے، بلوچستان پولیس جدید سی آئی ٹی بی ماڈل کے حصول کیلئے پنجاب سے رابطے میں ہے یہ ایک اچھی پیشرفت ہو سکتی ہے،حکومت آئی ٹی کے مختلف منصبوں کیلئے ہماری یونیورسٹی سے مدد لینے کیلئے رابطہ کرتی ہے اور ہم اس پر کام کر کے انہیں رسپانس بھی دیتے ہیں مگرآگے ہ میں اس پر زیادہ مثبت کام نظر نہیں آتا،شہریوں کو سروسز فراہم کرنیوالے محکموں کو اب ڈیجیٹلائز کیا جانا ضروری ہے تاکہ شہری مختلف محکموں کے چکر کاٹنے سے بچ سکیں اور انہیں آن لائن سہولیات ملیں۔

آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ حکومت بلوچستان کے ڈائریکٹر ٹریننگ جواد احمد نے بتایا کہ موجودہ دور میں حکومتیں انفارمیشن ٹیکنالوجی پر انحصار کر رہی ہیں کیونکہ پرانے طریقہ کار سے اب کوئی فیصلہ سازی یا ترقی نہیں کی جا سکتی، آئی ٹی اب ایک بنیادی ضرورت ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ذاتی دلچسپی ہے کہ تمام محکمواں میں کمپیوٹرائزڈ نظام لایا جائے،خاص طور پر حکومت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے محکمہ پی اینڈ ڈی میں یہ نظام نا گزیر ہے تاکہ تمام ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت آ سکے،انکے مطابق بلوچستان میں راءٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ تاحال نافذ نہیں ہو سکاتاہم حکومت نے اپنا ایک ویب پورٹل بنا رکھا ہے جس پر تما م محکموں کی بنیادی اور اہم معلومات دستیاب ہیں مگر محکموں کے اندر جو تفصیلات ہیں انہیں شیئر کرنے کا سلسلہ ابھی تک شروع نہیں ہو سکا اب اس سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب اور کے پی کے میں حکومت کی جانب سے اپنے ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات متواتر اپنی ویب ساءٹس پر اپ لوڈ کی جاتی ہیں تاہم بلوچستان میں یہ سلسلہ ابھی تک شروع نہیں ہو سکا،بد قسمتی سے ہمارے محکمے آئی ٹی کو اپنانے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں ظاہر سی بات ہے جب تمام معلومات عوام کے سامنے آئیں گی تومحکمہ بھی(accountable) ہو جائیگا ،جس کا خوف محکموں میں بہرحال موجود ہے،مگر وزیر اعلیٰ بلوچستان یہ چاہتے ہیں کہ تمام محکموں کا نظام کمپیوٹرائزڈ ہو تاکہ شفافیت آسکے ۔

اس سلسلے میں سینئر قانون دان راحب بلیدی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ حکومتی امور اور ترقیاتی منصوبوں کی تما م تفصیلات (public document)عوامی دستاویز ہوتی ہیں ، کوئی بھی شہری یہ معلومات ایک سادہ درخواست کے ذریعے حاصل کر سکتا ہے اور محکمے اس کے پابند بھی ہیں ،اگر وہ ایسا نہ کریں تو اسکے خلاف عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے،راءٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے علاوہ قانون شہادت کے تحت بھی شہریوں کو معلومات کے حصول کا حق حاصل ہے ۔ اس سلسلے میں حکومت کو ازخود تمام منصوبوں کی تفصیلات پرنٹ ، الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا یا آفیشل ویب ساءٹس کے ذریعے عوام کیلئے جاری کرنی چاہئیں ۔

سٹیزن رائٹس کیلئے کام کرنیوالے سوشل ایکٹوسٹ بہرام لہڑی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کمزور شکل میں نافذ ہے جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اس میں کئی اصلاحات کی گئی ہیں جہاں حکومتی اقدامات اور مفاد عامہ کے منصوبوں کو گاہے بگاہے عوام کی معلومات کیلئے ویب سائٹس پر اپ لوڈ اور دفاتر میں آویزاں کیا جاتا ہے، ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ قانون کا ہے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ 2005کے ایکٹ میں ترامیم اور اصلاحات لائی جائیں جس طرح خیبر پختونخوا اور پنجاب میں 2013 میں معلومات تک رسائی کا ایکٹ لایا گیا اور2017 میں وفاقی قانون بنا اسی طرز پر بلوچستان میں بھی قانون سازی ہو ،2005کا ایکٹ جو بلوچستان میں فریڈم آف انفارمیشن کے نام سے نافذ ہے اس میں معلومات تک رسائی کا جو طریقہ کار بتایا گیا ہے اس کے خاطر خواہ نتائج برآمدنہیں ہو رہے اور کسی کو اس سلسلے میں ذمہ دار بھی نہیں بنایا گیا،اس قانون میں مسئلہ یہ ہے کہ آپ کومتعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو درخواست دینا ہوگی اگر محکمہ معلومات فراہم نہ بھی کرے تو عدالت سے رجوع کرنے پر قانون میں سزاو جزا کا تصور موجود نہیں ، محکمے کسی مخصوص مدت میں معلومات فراہم کرنے کے پابند بھی نہیں ہیں ، دوسری اہم بات یہ ہے کہ عوا م کو آگاہی دینا ضرور ی ہے، جس طرح وزیر اعظم نے سٹیزن ویب پورٹل بنایا ہے اور اس پر براہ راست شکایات موصول ہوتی ہیں ،حکومت بلوچستان کوبھی چاہئے کہ اس پر کام کرے،عوام میڈیا اور سول سوساءٹی کو وقتاًفوقتاًبریفنگ دے تاکہ عوام کو آگاہی حاصل ہو سکے کہ انکے فنڈز کہاں اور کیسے استعمال ہو رہے ہیں ۔

حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی اس حوالے سے کہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کا وژن ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کے بغیر اہداف کا حصول ممکن نہیں ، ہم کوءٹہ میں 500 ملین روپے کی لاگت سے آئی ٹی پارک اور ڈیٹا سنٹر بنا رہے ہیں ،اسکے علاوہ100 پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کو (vertical education model) پر منتقل کیا جا رہا ہے،سی ایم سیکریٹریٹ اور سول سیکریٹریٹ میں فائل ٹریکنگ سسٹم لایا جا رہا ہے،پہلی مرتبہ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کیلئے۱۔۸ بلین روپے مختص کئے گئے ہیں تاکہ جدید ٹیکنالوجی کو اپنایا جاسکے،وزیر اعلیٰ شکایت سیل کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کی شکایات براہ راست موصول ہوں ،وزیر اعلیٰ سوشل میڈیا پر بھی عوام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں ،اگر ہم نے کارکردگی دکھانی ہے اور آگے بڑھنا ہے تو ٹیکنالوجی کے تمام ذرائع کو استعمال کرنا ہوگا اس کے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکتے ۔

رکن بلوچستان اسمبلی قادر علی نائل نے سوشل میڈیا کو حکومتی کارکردگی پر نظر رکھنے کا بہترین ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں ای گورننس کا تصور فعال ہے ہر حکومت کی خواہش ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو اپناتے ہوئے دنیا تک اپنی کارکردگی پہنچائے،جہاں تک حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھنے اور ٹیکنالوجی کی بات ہے تو اس بات کا انحصار معاشرے پرہے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں اس میں تعلیم کی شرح کتنی ہے، ٹیکنالوجی کی سہولت کتنی آبادی کو حاصل ہے،دور دراز کے علاقوں میں تو یہ سہولت ہی میسر نہیں تاہم شہروں میں لوگ اس سہولت سے استفادہ کرتے ہیں ،عوامی نمائندوں کا بھی اخلاقی فرض بنتا ہے کہ وہ خود کو عوام کے سامنے احتساب کیلئے پیش کریں ،یہاں قبائلی روایات کے تحت جرگوں ،کارنر میٹنگز اور جلسوں میں نمائندے اپنی کارکردگی پیش کرتے ہیں ،میری نظر میں دور جدید میں ٹیکنالوجی خصوصاًسوشل میڈیا ایک ایسابہترین ذریعہ ہے جس سے لوگوں میں شعورآ گیا ہے اور ان کی عوامی نمائندوں تک رسائی ممکن ہو گئی ہے، سوشل میڈیا کے ذریعے ہم اپنی کارکردگی لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں اور اسی کے ذریعے عوام بھی اپنے مسائل اجاگر کرتے ہیں جس کا نوٹس لیا جاتا ہے اور ان کی داد رسی بھی کی جاتی ہے،دوسری جانب ہم اپنے ناقدین کی رائے کو بھی اہمیت دیتے ہیں اور عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،سوشل میڈیا حکومت کو الرٹ کرنے کا ذریعہ ہے تاکہ وہ کارکردگی دکھائے،جس طرح پی ایس ڈی پی اور بجٹ سوشل میڈیا اور اخبارات میں شاءع ہوتا ہے اور معاشرے کا با شعور طبقہ اس کا مطالعہ کرنے کے بعد اس پر نظر بھی رکھتا ہے کہ حکومت نے جس شعبے کیلئے فنڈز رکھے ہیں آیا اس پر کام بھی ہوا ہے یا نہیں ،ایک طرح سے یہ بھی حکومت کا احتساب ہے ۔

ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ بات اخذ کی جا سکتی ہے ٹیکنالوجی حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانے اور کامون میں شفافیت لانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ماہرین کی رائے کے مطابق رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ میں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اصلاحات ضروری ہیں تاکہ شہریوں کو اپنی حکومت پر نظر رکھنے میں مدد ملے اور حکومت بھی ایسے اقدامات کرے جن کے ذریعے شہریوں کو ان کا بنیادی حق مل سکے ۔ پنجاب اورخیبر پختونخوا میں نافذ قوانین سے استفادہ کیا جائے اور محکموں میں کمپیوٹرائزڈ نظام لایا جائے،تمام معلومات ویب سائٹس پر فراہم کی جائیں ۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی ہی ترقی کا زینہ ہے اپنے صوبے اور عوام کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے حکومت ، سول سوساءٹی سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو سوچنا ہوگا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *