گڈ گورننس، اچھی حکمرانی میں شھریوں کا کردار

جاوید لانگاھ، کوئٹہ بلوچستان۔

کسی بھی ملک کے شہری اچھی حکمرانی یا گڈگورننس میں اپنا کردار کیسے ادا کر سکتے ہیں, اس کا جامع جواب حاصل کرنے کیلئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ گڈ گورننس یا اچھی حکمرانی کی تعریف کو سمجھا جا ئے ۔ دنیا بھر میں اچھی حکمرانی پر پا ئے جا نے والے علمی مواد یا نظریات کا اگر ُلب لباب نکا لا جا ئے تو اچھی حکمرانی کسی بھی حکومت یا انتظامی باڈی کی اس انتظامی ذمہ داریوں پر محیط ہو تی ہے جو عوام الناس کی ضرورت کے ارد گرد گھومتی ہے ۔ اچھی حکمرانی جس طریقہ کار سے عمل میں آتی ہے اس میں فیصلہ سازی اور ادا روں کے ذریعے ان فیصلوں پر عمل در آمد کروانا کلیدی حیثیت رکھتے ہیں ۔ مجمو عی طور پر اچھی حکمرانی قائم کرنے کے جزبات میں جو نمایاں خوبیاں شامل ہوتی ہیں ،ان میں لو گوں کی ضروریات اور احسا سات کی طرف سسٹم کی بہترین جوابدہی ، سرکار ی یا ادارتی امور میں شفافیت ، برابری پر مبنی انصاف، قابلیت، قانون کی حکمرانی سمیت معا شرے میں ایک ایسے وسیع اتفاق را ئے کا ہونا ضرو ری ہے جس کے ذریعے یہ تعین کیا جا سکے کہ کمیونٹی کا بہترین مفاد کیا ہے اور اسے کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ 

اس کے بر عکس بری حکمرانی معا شرے کو جوڑنے نہیں بلکہ بد عنوانی اور انتشار پر مبنی ہو تی ہے ۔ بدعنوانی کی اس و صف کے مطا بق ادا روں یا افراد کی طرف سے تفویض کیے گئے اختیا رات اور قوانین کو اپنے ذا تی مفاد میں استعمال کرکے، عوامی شعبے کے رےسورسس اور فنڈز کی خرد برد کرکے ، رشوت ، بد عنوانی ، اقربا پروری کے ذریعے پورے نظام کو مفلوج بنا دیا جا ئے اور جس سے معا شرے کی اجتما عی بہتری کا را ستہ روکا جا ئے ۔ 

ان خطوط پر ہما رے سامنے سات دھائیوں کی ایک پیچدہ تاریخ ابھرتی نظر آتی ہے ، جس میں مختلف اداروں میں سیاسی و غیرسیاسی حکومتیں اچھی حکمرانی نا فذ کرنے اور عوام کی مکمل شراکت داری جیسے بنیادی ماڈل کی تعمیر کے ایک بڑے چیلنج سے نبرد آزما رہی ہیں ۔ جیساکہ پاکستان کا انتظامی اور قانونی ڈھانچہ اور ریا ستی نظام برطانوی نوآباد یا تی نظام کا تسلسل رہا ہے، لہذا اس نظام میں سات دھا ئیوں کے با وجود کو ئی خاطر خواہ اور بنیادی تبدیلیاں نہیں لا ئی جا سکیں ۔ ایک ایسا ریاستی ڈھا نچہ جو کہ نوا ٓباد یا تی نظام کو چلا نے کیلئے بنا یا گیا تھا وہ ایک ایسے نو زائدہ ملک کے مسائل کو حل کرنے میں نا کام رہاجو کہ بیحد پیچدہ مسائل سے دو چار رہا ہے ۔ پاکستان میں حکمرانی اورخاص طورپر اچھی حکمرانی میں لوگوں کی شرا کت کیا کردار ادا کر سکتی ہے اور اس کیلئے کون سے قوانین اچھی حکمرانی قائم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں اس سوال کے جواب میں مختلف مکتبہ ہا ئے فکر کے مختلف خیالات سننے کو ملتے ہیں ۔ 

کوءٹہ کے معروف قانون دان اور سیا سی و انسانی حقوق کے سرگرم وکیل نا درحسین چھلگری کے خیال میں پاکستان میں اچھی حکمرانی کے قیام اور اس میں لو گوں کی بھر پور شرکت میں جہاں بہت سارے اور عوامل شامل ہیں ، وہاں ملک کو ورثے میں ملنے والا برطانوی نوآباد تی نظام بھی ہے جس کی کئی اور خرابیوں کے ساتھ ایک بڑی بنیادی خامی لوگوں پر عدم اعتماد ہے، کیونکہ نو آباد یا تی نظام عوام کی فلاح اور شراکت داری پر نہیں بلکہ آقاؤں اور خواص کی بہتری اور اقتدار کے دوام کیلئے تھا ۔ ہم نے سات دھا ئیوں میں اس نظام میں وہ اصلاح نہیں کی جو کہ اچھی حکمرانی اور لو گوں کی شراکت اور اعتماد کیلئے ضروری تھی ۔ ملک میں سیا سی عدم استحکام ، جمہوریت کا بار بار پٹری سے اتر جا نا، حکومتوں کا گرنا ، معاشی عد م استحکام اور خارجی و داخلی پالسیوں کے بد ترین اتار چڑھا وَ کے با عث ہما رے سیا سی ، حکومتی اور انتظامی امور میں وہ مرحلہ وار بہتری نہیں آسکی، جو کہ ہ میں اچھی حکمرانی دیتی اور اس میں لو گوں کی شمولت کو یقینی بنا تی ۔ 

ایڈووکیٹ نا در کے مطابق تاریخی طورپر ہم جس خطے میں رہتے ہیں وہ سماجی ، قبائلی اور رسم و رواج کے اعتبار سے تمام امور مشا ورت سے چلا نے کا قائل رہا ہے ، لیکن بد قسمتی سے ہم ان روایات کو اپنے حکومتی اور انتظامی ڈھانچے کا حصہ نہیں بنا سکے ۔ ان کے مطابق ریا ستی امور چلانے والے اکثر و بیشتر ادارے پولیس، افسر شاہی، عدالتیں اور دیگر ادارے لو گوں کوبہتر حکمرانی کا احساس نہیں دلا سکے، نتیجے میں شہری ان بنیادی اداروں پر اپنا اعتماد کھوتے چلے گئے ۔ ان کے مطا بق ایک بہتر اور اچھی حکمرانی کیلئے تمام حکومتی اداروں بشمول پالیسی ساز اداروں کے، عوام کے اعتماد کو بحال کرکے ان کی شراکت داری کو یقینی بنا نا پڑے گا ۔ ایڈووکیٹ نا در حسین کے مطا بق ملکی قوانین میں کچھ ایسی بہتر اصلاحات بھی ہو ئی ہیں ،جن سے اچھی حکمرانی کی راہیں کھلی ہیں ۔ جیسا کہ 2017، کے الیکشن ایکٹ کے ذریعہ خواتین، معذور افراد اور ٹرانس جینڈرز کیلئے الیکشن اور جمہوری پروسیس میں حصہ لینے کو یقینی بنا یا گیا ہے ۔ کمزوروار محروم طبقات کا پہلے مرحلے میں ووٹ کے ذریعہ نظام کا حصہ بننا اور بعد میں پالیسی سازی اور امور سرکار میں حصہ ڈالنا ایک اچھا قدم ہے ۔ تا ہم جدید دور میں ایک اچھی حکمرانی والے معا شرے کا درجہ حا صل کرنے اور لو گوں کو شریک کرنے کیلے بڑے انقلابی اقدامات اور قوانین کی ضرورت ہے ۔ ہما را ایک المیہ یہ ہے کہ ناخواندگی کی وجہ سے لو گوں کو ان مروج قوانین اور ان کے استعمال تک کی خبر نہیں ، جو قوانین ان کو سرکاری ادا روں سے معلومات لینے ، ان کے خلاف شکایت درج کرنے اور حقوق حاصل کرنے کا راستہ دکھاتے ہیں ۔ ہمارا قانونی سسٹم بھی لو گوں کی شراکت کیلئے کو ئی زیادہ آسانیاں پیدا نہیں کرتا ، جس کی بنا پر لو گوں کی بڑی تعداد شراکت اور امور سرکار سے لا تعلق رہتی ہے ۔ انصاف کے حاصلات میں وقت اور پیسے کے زیاں نے شہریوں کو نظام عدل سے دلبرداشتہ کر دیا ہے ۔ روایتی طور پر یہ روش حکمران اور با لا دست طبقات کو اسٹیٹس برقرار کھنے اور اپنا تسلط قائم رکھنے میں مدد کرتی ہے ۔ 

نادر حسین کے خیال میں ملک میں اچھی حکمرانی اور اس میں لوگوں کی شراکت داری کیلئے سیا سی پارٹیوں ، انسانی حقوق کے جملہ گروپس ، پر یشر گروپس ، ٹریڈ یونینز ، میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ۔ جدید دور میں ہم اچھی حکمرانی کے ما ڈل کے بغیر نہ ترقی کر سکتے ہیں اور نا ہی انصاف پر مبنی معا شرہ قائم کر سکتے ہیں ۔ 

اس سلسلے میں جب حکمران جماعت پی ٹی آئی کے رھنما ،ممبر بلوچستان اسمبلی اور صو با ئی وزیر محمد عمر جمالی کے سامنے اچھی حکمرانی اور شہریوں کی شرکت کے حوالے سے سوالات رکھے گئے تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مر کزی اورصو با ئی حکومتوں کیلئے یہ دور حا ضر کا سب سے بڑا سوال اور چیلنچ ہے، جس کو حل کیے بغیر ہما را سفر اُسی ایک دائرے میں ہو گا ، جو کہ ہم دھا ئیوں سے کرتے ہو ئے آئے ہیں ۔ ایم پی اے محمد عمر جما لی کے مطا بق ہما رے سسٹم کی خرابیوں ، معاشی مسائل ، کثیرآبادی اور مروج سیاسی و سماجی نظام نے اتنے مسائل پیدا کئے ہوئے ہیں کہ ہم اچھی حکمرانی کی اس منزل کو نہیں پہنچ سکے ، جہاں دنیا کے اکثر ترقی یافتہ ممالک اور ایک بڑی تعدا د میں ترقی پزیر ممالک کھڑے ہیں ۔ گو کہ آج ہم ماضی کے مقابلے بہت سارے شعبوں میں بہتر حالت میں کھڑے ہیں ، اور نظام میں عوام کی شراکت داری پہلے سے کئی درجہ بہتر ہے ۔ جدید سائنس و ٹیکنالوجی نے معلومات کے وہ راستے کھو ل دئے ہیں جن کی بنا پر آج کو ئی بھی عام آدمی اسمبلی میں قانون سازی ، ڈپارٹمنٹس کی کارکردگی اور کام وغیرہ کے متعلق اپنے کمپیوٹر اور مو با ئل وغیرہ پر فوری معلومات حا صل کر سکتا ہے ۔ پہلے عام آدمی کو تو بلکل خبر نہیں ہو تی تھی کہ ان کا منتخب نما ئندہ کہاں ہے اور کیا کر رہا ہے ۔ لیکن آج کے جدید میڈیا اور بلخصوص سوشل میڈیا نے لوگوں کو پل پل کی آگاہی دے رکھی ہے ۔ وزراء، ایم این ایز، ایم پی ایز، مشیران اور دیگر انتظامی افسران ، سوشل میڈیا کے ہینڈ لز اور گروپس کے ذریعے صحافی، عام شہری اور ووٹرز آپس میں جڑے ہو ئے اور باخبر ہیں ۔ عمر جمالی کے مطابق ان کو اپنے حلقے اور ووٹرز کے معلق زیا دہ تر معلومات ،شکایات اور فیڈ بیک اب سوشل میڈیا کے ذریعے ملتا ہے ، جو کہ ایک مثبت قدم اور لو گوں کی شراکت داری کا بڑھتا ہوا ذریعہ ہے ۔ تا ہم بہترین حکمرانی کی منزل تک پہنچنے کیلئے اب بھی ایک طویل سفر طے کرنا ہو گا ۔ ان کے مطابق یہ ایک حقیقت ہے کہ حکومت کے متعلق لو گوں کے تصورات ایک لمبے تجربے اور ما یوسی کی بنا پر استوار ہو ئے ہیں ، تا ہم جدید قوانین سے دوریوں کو کم کر کے اشتراک پیدا کیا جا سکتا ہے ۔ مثال کے طور پر عام شہری کا حکومت کے ترقیاتی پروگرام کے با بت یہ خیال ہوتا ہے کہ روڈ ، راستے ، اسکول، ہسپتال و تمام بڑی اور چھوٹی ترقیاتی اسکیموں کے فنڈز نمائدے اور افسر شاہی مل کر ہڑپ کر جا تے ہیں ۔ یہ ایک مروج سوچ ہے، لیکن حقیقت میں کلی طور پرایسا نہیں ہو سکتا ہے ۔ ایک ترقیاتی اسکیم کی پی اینڈ ڈی سے منظوری کے ابتدائی مرحلے سے لیکر ٹینڈرز اور کام کی پیش رفت تک تمام معلومات دستاویزی شکل میں موجود ہو تی ہے، جسے کو ئی بھی شہری حاصل کر سکتا ہے ۔ تمام شہری اور میڈیا اس معلومات کو حاصل کر کے اپنے لئے آگا ہی اور شراکت داری کاکردار ادا کر سکتے ہیں ۔ عمر جمالی کے خیال میں ای ۔ گورننس اورمعلومات کی رسا ئی کا قانون 2017 دو ایسی چیزیں ہیں جو روا یتی گورننس اور شہریوں کی عدم شرکت کے پرا نے تصور کو توڑ کر حکمرانی کا ایک نیا بہتر اور شراکتی نظام برپا کرسکتی ہیں ،اس کیلئے معا شرے کے پالیسی ساز اور اطلاق کرنے والے ادا روں سمیت تمام اسٹیک ہو لڈر ز کو اپنا کردار ادا کرنا پڑیگا ۔ 

کوٹہ میں برسوں سے عملی صحافت کے شعبے سے وابسطہ اور 92گروپ کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر خلیل احمد اپنے صحافتی تجربے کی بنیاد پر ملک اور بلوچستان میں اچھی حکمرانی اور لوگوں کو شمولیت کے متعلق اتنے پر امید نہیں ہیں ۔ ان کے مطا بق اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے دوران وہ جن جن خبروں سے نمٹتے رہتے ہیں وہ زیادہ تر عوامی مسائل ، شکایات ،امن وامان ،انتظامی امور اور کرپشن وغیرہ سے جڑی ہوئی ہو تی ہیں ۔ خلیل احمد کا کہنا ہے کہ ان کا کام اور روزانہ کی خبریں ہی اس سوال کا جواب ہو تی ہیں کہ حکمرانی اور خاص طور پر اچھی حکمرانی اور شہریوں کی اس عملی شراکت کے لحاظ سے ہم کہاں کھڑے ہو ئے ہیں ۔ ان کے مطابق گو کہ معلومات تک رسا ئی سے لیکر بہت سارے دیگر قوانین ملک میں مو جود ہیں ، لیکن ابھی تک سرکاری اور خودمختار اداروں کی ایک کثیر تعداد اب بھی معلومات دینے سے سخت نالاں ہو تی ہے ۔ عام شہریوں کو تو چھوڑ دیں ادارے کسی صحافتی اسٹوری یا خبر کی تصدیق یا تردید کیلئے بھی بنیادی دستاویزی معلومات نہیں دیتے ۔ ان کے مطا بق اس کی بنیادی وجہ سرکاری ادا روں کا روایتی رویہ باہمی، اعتماد کی کمی اور کرپشن وغیرہ جیسے عوامل ہیں ۔ اداروں میں بیٹھے افسران اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ 

اخبارات یا ٹی وی ان سے معلومات حاصل کرکے کسی ایسی اسٹوری کا حصہ بنا دے گی، جس میں کہیں نہ کہیں ان کانام اور کام ظا ہر ہو سکتا ہے اور اکثر و بیشتر ایسا ہو تا بھی رہتا ہے، کیونکہ ہما را میڈیا بھی اسی ہی معا شرے کا حصہ ہے ۔ 

خلیل احمد کا کہنا ہے کہ گذشتہ دھا ئی میں میڈیا کی ترقی خاص طور پر منظم انداز میں ٹی وی چینلز کے ایک صنعت کے طور پر ابھرنے ے جہاں معلومات تک رسا ئی بہترا ور آسان ہو گئی تھی وہاں حکومتوں اور عوام کے درمیان رابطے کا بھی ایک موثر ذریعہ پیدا ہوا تھا ۔ لیکن معا شی بحران اور مو جودہ حکومتی پالیسیوں نے اس صنعت کو بری طرح متا ثر کیا ہے ۔ اس انڈسٹری کی بحران سے جہاں بے روز گار ی پیدا ہو رہی ہے وہاں ایک ایسا وسیلہ بھی کمزور پڑرہا ہے، جو کہ حکومت اور شہریوں کے درمیان رابطے اور اشتراک کی معا ونت کیلئے دستیاب تھا ۔ گذشتہ 10سالوں میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے اچھی حکمرانی ، عوامی ، شراکت داری ، کرپشن، امن و امان، ترقیاتی پرا جیکٹس ، شفافیت، قانون کی حکمرانی اور عوامی مسائل کے حل کیلے سینکڑوں نہیں ہزاروں اسٹوریز اور رپورٹس پیش کی ہیں ، جو کہ کسی ایک شعبے کی طرف سے اچھی حکمرانی اور شہریوں کی اس میں شرکت کیلئے سب سے بڑا محاذ ثابت ھوا ہے ۔ 

اس سلسلے میں ریجنل سیکریٹری ٹرانسپورٹ اور سینئر سرکاری افسر روحا نہ گل کاکڑ کا کہنا تھا کہ گڈ گورننس اور اس میں شہریوں کی شرکت کے حوالے سے ملک میں پہلے سے بہتر حالات ہیں ۔ ان کے مطابق آج سے10 سال پہلے لوگوں کو امورحکمرانی ، سیاست یا سر کا روں کے بننے یا ان کے کام سے دلچسپی بہت کم تھی ۔ آج معلومات کے جدید زراءع کی وجہ سے شہری اگر مکمل شرکت نہیں کر رہے تو وہ لا تعلق بھی نہیں ہیں ۔ 

روحا نہ گل کے مطابق برطانوی طرز کے حکمرانی نظام میں خامیاں ضرور تھیں لیکن کمشنر ، ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر تک جتنے اختیارات تھے ان سے دگنی جوابدہی ہوا کرتی تھی ۔ روحانہ گل جو خود بھی اسسٹنٹ کمشنر رہ چکی ہیں ،ان کے مطابق ایک ضلع کے یونٹ تک ڈپٹی کمشنر بہترین انتظامی ادا رہ رہا ہے، جب اُس سے مجسٹریٹ کے پا ور لے لئے گئے تو اچا نک یہ ادا رہ کمزور پڑنے لگا ۔ ان کے مطا بق اختیارات کی تقسیم یا سیپریشن آف پا ور اچھی بات ہے لیکن یہ کام بتدیریج ہونا چاہیے تھا ۔ روحا نہ گل کا کہنا تھا کہ اچھی حکمرانی کیلئے مختلف ادا وار میں قانون سا زی اور دیگر اقدامات اٹھا ئے گئے ہیں جن سے بہتری کی امید ہے ۔ ان کے مطا بق سائنس اور ٹیکنا لو جی ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے زیا دہ استعمال سے افراد کا عمل دخل کم ہوتا جا تا ہے ۔ آپ اپنے سسٹم میں جتنے آٹومیشن لا تے جا ئیں گے اتنی ہی بہتری اور شفافیت پیدا ہو تی جا ئے گی ۔ ان کے مطا بق ای ۔ گورننس اور مختلف اداروں کی طرف سے آن لائین سہو لیات اور معلو مات بہم پہنچا نے سے بہت حد تک آگاہی آ چکی ہے اور شہریوں کی شرکت دن بہ دن بڑھ رہی ہے ۔ اگر ہم مرکزی صو با ئی اور مکا نی اداروں کے کام کاج کو زیا دہ سے زیا دہ خود کا راور انٹرنیٹ کے ذریعہ چلا ئیں گے تو بتدریح بہتری آئے گی ۔ ان کے مطا بق اچھی حکمرانی اور ان میں شہریوں کی شرکت کو یقینی بنانے کیلئے ہ میں اب بھی بہت سارے اقدامات اٹھا نے کی ضرورت ہے ۔ 

اچھی حکمرانی اور اس میں لو گوں کی شراکت کو بڑھا نے کے متعلق سوالات کو لیکر جو جوابات اور نقط نظر سامنے آیا ہے اس کے مطا بق ہما رے معا شرے میں اچھی حکمرانی قائم کرنے کیلئے اب بھی بہت ساری اصلاحات اور قوانین بنانے کی ضرورت ہے ۔ ملک میں کئی دھا ئیوں سے جا ری نو آبادیاتی سسٹم کو ایک جدید اور خود کار کمپیوٹرائز سسٹم میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جو کہ کار گردگی کی بنیاد پر تمام اشیاء اور خدمات کی ترسیل کی بنیاد بن سکے ۔ تمام سرکاری ، پارلیمانی امور میں شفافیت ، کھلے پن اور شرکت کو یقینی بنا یا جا ئے اور شہریوں کو تمام معلومات تک رسا ئی ہونی چا ہئے ۔ ملک کے عدالتی نظام کو بہتر اور موثر ہونا چا ہیے تا کہ انصاف کی فراہمی بر وقت ہواور ہر جرم بشمول کرپشن کو عدالتوں کے ذریعے ختم کیا جا ئے ۔ پو لیس کو جدید تربیت دے کر ان کی پیشہ ورانہ استعدا د کو بڑھا یا جا ئے اور پولیس کے معاملات دیکھنے کیلئیے ایک آزاد کمیشن ہونا چا ہیے ۔ کمیونٹی پولیسنگ متعارف کروا کر روا یتی پولیس کے نظام کو بتدیریح کم کیا جا ئے ۔ مکا نی ادا روں میں شہریوں کی شمولیت کو یقینی بنا کر اس میں بے جا ریاستی اور انتظامی مدا خلت کو ختم کیا جائے ۔ تمام ترقیاتی فنڈز کی ایک آزاد آڈٹ کروا کر اس رپورٹ کو پیلک کیا جا ئے ۔ 

ملک کی ہر سطح پر جاری تمام ترقیاتی منصوبوں کو قانونی تحفظ دیا جا ئے تا کہ وہ کسی بھی سیاسی و حکومتی تبدیلی کے با وجود جا ری رہیں ، کیونکہ اچھی حکمرانی کا تعلق ایک بہتر ترقیاتی ماڈل سے جڑا ہوا ہے، جو کہ شہریوں کیلئے روزگار، اعتماد اور شراکت کے راستے کھولتا ہے ۔ 

One Reply to “گڈ گورننس، اچھی حکمرانی میں شھریوں کا کردار”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *