ترقیاتی کاموں میں دیہی و شہری علاقوں کی تفریق

شاھنواز چاچڑ

پاکستان بنیادی طور پر ایک ذرعی ملک ہے جس کی 60% فیصد سے زیادہ آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے، لیکن حکومتی ترقیاتی اسکیموں کی دیہی و شہری علاقوں میں تفریق واضع نظر آتی ہے۔ دیہی علاقوں میں یہ تعصر عام پایا جاتا ہے کہ ملک میں حکومت کی طرف سے ترقیاتی کاموں میں دیہی علاقوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، اور پاکستان کے صوبے بلوچستان میں بھی ترقیاتی اخراجات و عوامی سہولیات کی سرکاری اسکیموں کے حوالے سے یہ دیہی و شہری تفریق محسوس کی جاتی ہے جس کی وجہ سے صوبے کی ترقی کی شرح میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا ہے.

رہتی ہے، لیکن حکومتی ترقیاتی اسکیموں کی دیہی و شہری علاقوں میں تفریق واضع نظر آتی ہے۔ دیہی علاقوں میں یہ تعصر عام پایا جاتا ہے کہ ملک میں حکومت کی طرف سے ترقیاتی کاموں میں دیہی علاقوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، اور پاکستان کے صوبے بلوچستان میں بھی ترقیاتی اخراجات و عوامی سہولیات کی سرکاری اسکیموں کے حوالے سے یہ دیہی و شہری تفریق محسوس کی جاتی ہے جس کی وجہ سے صوبے کی ترقی کی شرح میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا ہے.

رہتی ہے، لیکن حکومتی ترقیاتی اسکیموں کی دیہی و شہری علاقوں میں تفریق واضع نظر آتی ہے۔ دیہی علاقوں میں یہ تعصر عام پایا جاتا ہے کہ ملک میں حکومت کی طرف سے ترقیاتی کاموں میں دیہی علاقوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، اور پاکستان کے صوبے بلوچستان میں بھی ترقیاتی اخراجات و عوامی سہولیات کی سرکاری اسکیموں کے حوالے سے یہ دیہی و شہری تفریق محسوس کی جاتی ہے جس کی وجہ سے صوبے کی ترقی کی شرح میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا ہے.

بلوچستان ملک کا سب سے پسماندہ علاقہ ہے اور گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک تعصر پایا جاتا ہے کہ سرکاری مشنری نے اس صوبے کو نظرانداز کیا ہوا ہے. صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں کی حالت بہت ہی خستہ ہے جو سرکاری توجہ کی منتظر ہیں. اس صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی بھی غیر منصفانہ تفریق پائی جاتی ہے. علاقہ مکینوں کے مطابق ایک تو ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بلوچستان کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں نظرانداز کیا جاتا ہے اور جو منصوبے ملتے ہیں اس میں بھی بڑی حد تک شہری اور دیہی تفریق نمایاں نظر آتی ہے.

کوئٹہ کے رہائشی ایوب ترین سینیئر صحافی ہیں اور ایک نجی نشریاتی ادارے سے منسلک ہیں. ان کا کہنا ہے کہ صوبے کا ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ شہری علاقوں پر خرچ کیا جاتا ہے اور جو تھوڑا کچھ بچتا ہے وہ دیہی علاقوں کو دیا جاتا ہے. حکومت کے اس عمل سے صاف تفریق دکھائی دیتی ہے.

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں جنتی بھی حکومتیں بنی ہیں سب نے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے دیہی علاقوں سے ناانصافی کی ہے اور تمام شعبوں میں ان کو پیچھے دھکیلا گیا ہے. ان کے مطابق اگر کوئٹہ سے باہر قدم رکھا جائے گا تو معلوم ہو گا کی حکومت اس صوبے کے عوام سے کتنی مخلص ہے.

ان کے مطابق دیہی علاقے پہلے ہی صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں مشکل صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں جس کی وجہ حکومت کی توجہ نہ ہونا ہے. صوبے کے منتخب نمائندے بھی اپنا کام صحیع طور پر سر انجام نہیں دے رہے ہیں.

انہوں نے مزید بتایا کہ ترقی کے حوالے سے شہری اور دیہی علاقوں میں اس قدر خلیج بن چکی ہے کہ اس اب بیلینس کرنا بھی حکومت کےلیے مشکل کام ہے. صوبے میں اس تفریق کی وجہ بدترین کرپشن اور حکومت کی توجہ کا نہ ہونا ہے.

گزشتہ برس وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے 1600 ترقیاتی منصوبوں کی تحقیقات کا حکم دیا تھا. ان منصوبوں کو سالانہ صوبائی ترقیاتی پروگرام کے تحت مناسب طرز عمل اپنائے بغیر شروع کیا گیا تھا.

محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کے حکام کے مطابق اربوں روپے کی مالیت کی ان منصوبوں کو سیاسی عمل دخل اور ذاتی خواہشات کی بنا پر منظور کیا گیا تھا اور ان منصوبوں کےلیے کسی متعلقہ حکام سے تجاویز بھی حاصل نہیں کی گئی تھی.

کوئٹہ کے ہی رہائشی ملک سلام خان جو سماجی کارکن ہیں اور ایک این جی او سے وابستہ ہیں. ان کا کہنا ہے کہ جو بھی حکومت بنتی ہے تو وہ بلوچستان کی ترقی کی لیے بلند دعوے کرتی ہے لیکن آج تک اس صوبے کی پسماندگی ختم نہیں ہوئی. ان کے مطابق ترقیاتی بجٹ کا زہادہ تر حصہ منتخب نمائندوں اور سرکاری افسران کی جیبوں میں جاتا ہے جس کی وجہ سے صوبے کے حالات بدتر ہیں.

بلوچستان قدرتی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود ملک کا سب سے پسماندہ صوبہ ہے اور یہ مختلف شعبوں میں پسماندگی کا شکار ہے. عوام کو بنیادی سہولیات مسیر نہیں ہیں بالخصوص پینے کا صاف پانی، تعلیم و صحت کی سہولیات قابل توجہ ہیں جبکہ حکومت عام لوگوں کی معاشی اور سماجی ترقی کےلیے کوئی خاص قسم نہیں اٹھا رہی ہے.

بلوچستان کا شاید ہی کوئی ایسا شہر یا بڑی آبادی ہو جہاں پر عوام کو مناسب شہری سہولیات میسر ہوں. ایک نظر دوڑانے پر بلوچستان ایک وسیع وعریض کچی آبادی نظر آتا ہے اور یہاں مناسب شہری سہولیات دستیاب نہیں.

صوبے کے سینکڑوں شہروں میں صحت وصفائی کا وجود نہیں جس کی وجہ سے بیماریاں پھیل رہی ہیں جس سے ہلاکتوں میں اضافہ ہورہا ہے اور سرکاری اسپتالوں پر دباؤ بڑھتاجارہا ہے جس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ مقامی کونسلوں کو جتنے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں اس کا نوے فیصد ملازمین کی تنخواہوں کی نظر ہوجاتا ہے،صحت وصفائی سڑکوں کی تعمیر کیلئے کچھ نہیں بچتا. جس کی وجہ سے مقامی کونسلوں کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہوکر رہ گیا ہے، اب اس میں یہ صلاحیت باقی نہیں رہی کہ وہ مقامی آبادی کی کسی بھی طرح خدمت کر سکے. ترقیاتی پروگراموں میں بلوچستان کے بیشتر چھوٹے شہروں اور پسماندہ ترین علاقوں کونظرانداز کیاجاتا ہے، جس سے صوبے کی بہت بڑی آبادی بنیادی سہولتوں سے محروم رہی ہے، جن میں اسکول، ہسپتال، پکی سڑک اور ذرعی ترقیاتی کی اسکیمیں شامل ہیں۔

محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کے ایک اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ حکومت ترقیاتی منصوبوں کی تقسیم میں دیہی اور شہری علاقوں میں تفریق کرتی ہے. ان کے مطابق صوبے بھر کی ترقی کےلیے کوشاں ہے اور حکومت سنجیدگی کے ساتھ کام کر رہی ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں کے مختلف منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائے ہیں اور عوام اس سے مستفید ہو رہی ہے.

کوئتہ سے تعلق رکھنے والے ایک سماجی کارکن عرفان گل بنگلزئی نے اس بارے میں کہا ـ اگر حکومتی ادارے اور حکمران بلوچستان سمیت پاکستان کے دیگر دیہی علاقوں میں بنیادی سہولتیں مہیا کردیں تو ان دیہی علاقوں میں رہنے والے افراد ملک کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، تعلیم، صحت اور سڑکوں جیسی سہولیات سے مقامی دیہی آبادیوں میں نئے معاشی مواقعہ پیدا ہونگیں، اور سینکڑوں دیہی ھنرمند نوجوانوں کو شہروں تک رسائی مل سکے گی۔

One Reply to “ترقیاتی کاموں میں دیہی و شہری علاقوں کی تفریق”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *