عورتوں کے حقوق کے لیے کی جانے والی قانونسازی اور آگاہی۔

شاھنواز چاچڑ

عورتوں کے حقوق پر کام کرنے والی ایک تنظیم کی طرف سے شایع کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق 2018 میں پورے بلوچستان میں ہر دوسرے دن ایک عورت تشدد کا نشانہ بنتی رہی۔

بلوچستان میں خواتین کو ان گنت مسائل کا سامنا ہے کاروکاری سیاہ کاری اس طرح کے کئی ناموں سے عورت کا ہمارے معاشرے میں روزانہ کا  احتصال معمول ہے کیا وجوہات ہیں کہ دن بدن خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے واقعات جنم لے رہے ہیں کیا عدلیہ پولیس انتظامیہ یا دیگر اداروں میں خواتین کی نمائندگی کا نہ ہونا ان واقعات کا باعث ہیں یا شعور و آگہی کی کمی ہے یا کوئی اور وجہ اگر ماضی کے مقابلے میں آج دیکھا جائے  تو مختلف شعبوں  میں خواتین کی نمائندگی میں واضح اضافہ ہوا ہے اب خواتین بہت سے اداروں میں اپنے فرائض بخوبی سرانجام دے رہی ہیں، اس کے باوجود خواتین  کے خلاف ہونے والے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ لیکن دوسری طرف تعلیم کی کمی قبائلی معاشرے کی وجہ سے عورتوں کی بڑی تعداد اپنے بنیادی حقوق سے آگاہی نہیں رکھتی۔

اس بارے میں سابقہ مشیر خزانہ ڈاکٹر رفیعہ ہاشمی کا کہنا ہے کہ ہم نے خواتین کے لئے اسمبلی میں قانون سازی کی خواتین کے تحفظ کے لیے باقاعدہ قوانین منظور کروائے صنفی مساوات کی پالیسی سمیت گھریلو تشدد کی روک تھام اور ان کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے 2014 میں ایکٹ بنایا گیا اسی طرح کے بے شمار خواتین کی فلاح و بہبود اور ان کے تحفظ کے لئے قوانین منظور کراے گے  عورتوں کے خلاف تشدد میں ا ضا فہ ایک سنگین مسلہ ہے اسکے لیے ہم سب نے مل کر لڑنا ہے جب کسی معاشرے میں عورت عدم تحفظ کا شکار ہو تووہاں بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں بلوچستان میں خواتین کے حقوق کے لئے  قوانین موجودہیں اوران پر عملدرآمد کرانا حکومت کا کام ہے بلوچستان کی اکثریت آبادی دہی علاقوں پر مشتمل ہے جہاں حکومتی نظام کے علاوہ قبائلی،  علاقائی رسم و رواج بھی عورتوں کی زندگیوں کو  شدید متاثر کرتے ہیں جیسے جرگوں کے فیصلوں میں لڑکیوں کی شادی اور دیگر مسائل طے کرنا شامل ہیں ناخواندگی جیسی دیگر وجوہات میں سے ایک اہم وجہ خواتین اپنے حقوق اوراپنے بارے میں قوانین سے لاعلم ہیں  

سماجی ورکر اور انسانی حقوق کی مقامی رہنما جلیلہ حیدر کا کہنا ہے کہ یہاں خواتین کو دورے قوانین سے گزرنا پڑتا ہے ہے ہمارے لیے الگ اور مردوں کے لیے الگ قانون ہے مردغیرت کے نام پر قتل کر کے کچھ عرصے بعد واپس روڈ پر دندناتا پھر رہا ہوتا ہے خواتین سے امتیازی سلوک کا آپ روزانہ مشاہدہ کر سکتے ہیں ہماری زندگی کے فیصلے ملک قبائیلی معشر اور معتبر کرتے ہیں حالانکہ عورت خود ٹیچر  ہے بچوں کی ابتدائی تعلیم عورتیں ہی سر انجام دیتی ہیں اس کے باوجود عورتوں کو امتیازی سلوک کا سامنا رہتا ہے خواتین کی حالت زار بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں سیاسی سطح پر مستحکم کیا جائے  ہمارے ہاں رائج قبائلی رسم و رواج کے تحت عورت کو جائیداد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جو اس کے حقوق کے برعکس ہے عورت۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں عورت کو گھر، آفس سمیت معاشرے میں اس کا مقام دینا ہوگا جو اس کا مذہبی سماجی قبائیلی اورقانونی حق ہے، اس کے بغیر معاشرے کی ترقی نامکمل ہے خواتین کے حقوق کے بارے میں شاید صرف ان لوگوں کو پتا ہے جو پڑھے لکھے ہیں، اور آئے دن عورتوں کے حقوق کے بارے میں سیمناروں میں خطاب کررہے ہوتے ہیں، جس عورت کا مسئلہ ہے اسے کچھ علم نہیں ہمارے صوبے کی دور دراز کے دیہی علاقوں میں عورت ہونے کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ وہ مرد کی غلام رہے۔ 

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی سیاسی و سماجی کارکن ڈاکٹر ارم فاطمہ کا کہنا ہے کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں، گھر کے مرد اس بات کو تع کرتے ہیں کہ ان کی عورتوں کو کن کاموں میں شمولیت اختیار کرنی چاہیے، بہت سارے ایسے علاقے ہیں جہاں پر ہم عورتوں کی سیاسی سماجی سرگرمیوں میں شمولیت کرانے کے لیے ان کے مردوں سے اجازت لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تو صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے جو عورتوں کے حقوق کے حوالے سے جو قانون بنائے ہیں ان کے بارے میں دور دراز علاقوں میں آگاہی دینی چاہیے اور ان کاموں کے لیے روایتی میڈیا اور سیمینار سے بڑھ کر ہمیں کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر ارم فاطمہ نےمزید کہا کہ لڑکیوں کی بنیادی تعلیم ایک بہترین طریقہ ہے جس سے آپ نہ صرف انہیں بہتر زندگی گزارنے کا ہنر دےسکتے ہیں، بلکہ انہیں اپنے حقوق کی آگاہی اور ان کے حصول کے راستے بتا سکتے ہیں۔ عورت اس معاشرے کا برابر حصہ ہے جب تک معاشرے کے ترقی میں عورت کا کردار واضع طور پر شامل نہیں ہوگا، ہمارے معاشرے کی ترقی ناممکن ہے۔

علاوالدین خلجی ریذ یڈنٹ ڈائرکٹر  عورت فاونڈیشن بلوچستان کا کہنا ہے شعور و آگہی کے لیے ہماری تنظیم لا ڈیپارٹمنٹ اور وومن ڈیپارٹمنٹ کے اشتراک سے وقتاً فوقتاً  سیمینار ورکشاپ اور عام آگاہی کی مہم کے ذریعے عوام کو آگاہی فراہم کی جاتی ہے، عورتوں میں آگاہی کے اقدامات کے لیے این جی ایوز اور حکومتی اداروں کے اشتراک سے مربوط نظام وضع ہونا چاہیے جومعاشرتی و سماجی بنیادوں پر استوار ہو۔ خواتین کی حالت زار بدلنے کے لیے سیاسی و معاشی طور پران کو مظبوط اور تعلیم کے زیور سے آرستہ کیا جانا پاہیے، اور گھر میں بیٹوں اور بیٹیوں میں تفریق کے بوسیدہ رسم و  رواجوں کو ختم کرنا ہوگا اس طرح کے دیگر اقدامات سے  عورتوں کے خلاف امتیازی سلوک میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہیں۔ علاؤالدین خلجی کا کہنا ہے کہ ہم آنر کلنگ اور سیاہ کاری کے خلاف مہم چلا رہے ہیں جس کے لئے ہم پینا فلیکس پوسٹر پمفلٹس اور بروشر کے ذریعے عوام کی توجہ ان سنگین مسائل کی طرف مبذول کرارہے ہیں اور معاشرے کے چہرے پر بد نما  رسم ورواج کے نام پر ناحق خون خرابے کے خلاف شعور کے لیے مقامی میڈیا کے ذریعے بھی تشہیری مہم وقتاَ فوقتاً چلائی جاتی ہیں

صوبے کے دور دراز کے علاقوں کی خواتین کو حقوق کی آگاہی کے بارے میں ایک خاتون ملازمہ سائرہ احمد کا کہنا تھا کہ یہاں شہر میں ہم روز لوگوں کے عدم مساوات کا نشانہ بنتی ہیں جب ہم گھر سے باہر نکلتی ہیں، ہم کسی دفتر میں کام کرتے ہوئے یا شہر میں رہ کر  اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں، اور ایسے میں آپ دور دراز کی خاتون کا اندازہ لگائیں کیا ہو رہا ہوگا اس کے ساتھ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھہ مقامی دیہی علاقوں میں تو سالن میں اگر گوشت پکا ہے تو وہ صرف مرد کا حق ہے، اور شوربہ عورت کے لیے، دودھ والی چائے مرد کے لیے اور قہوہ عورت کے لیے۔ جب اس طرح کی صورت حال ہوگی تو آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ کتنی بڑی کم علمی کے ساتھ ہماری خواتین دہی علاقوں میں اپنی زندگی گزار رہی ہیں۔

One Reply to “عورتوں کے حقوق کے لیے کی جانے والی قانونسازی اور آگاہی۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *