بلوچستان میں جرم کے واقعات میں کمی۔

شاھنواز چاچڑ

ٹیلیویزن کی خبریں ہوں یا اخبارات گزرے سالوں میں جب بھی بلوچستان کا ذکر سننے یا دیکھنے کو ملا زیادہ طر وہان ہونے والے جرم، تشدد اور دھشتگردی کے واقعات کی خبروں کی وجہ سے سنا ہے۔

اگر ہم ماضی کے مقابلے میں صرف پانچ سالوں کے کرائم کا ریکارڈ دیکھیں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ بد امنی کے واقعات میں کافی حد تک کمی آئی ہیں,  اس تحریر میں ہم نے کوشش کی ہے کہ پچھلے سات سالوں میں ہونے والے جرائم کے اعداد و شمار پر ایک نظر ڈالیں اور اس بارے میں شہریوں سے بھی بات کریں۔


نیشنل پولیس بیورو کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار

نیشنل پولیس بیورو کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۱۳ سے ۲۰۱۸ تک صوبہ بلوچستان مین اکسٹھ ھزار پانچ سو آتھ جرائم رپورٹ ہوے، جن میں قتل، ڈکیتی، چوری، اور بھینس چوری کے جرائم شامل ہیں، پچھلے سات سالوں میں دو ھزار سترہ میں سب سے زیادہ جرائم کے واقعات رپورٹ ہوے جن کی تعداد نو ھزار چار سو بیانوے ہے۔ لیکن ان اعداد و شمار میں 79% فیصد جرائم کے واقعات کے بارے ہیں نہیں بتایا گیا کہ یہ کس قسم کے واقعات ہیں، اور انہیں صرف  دیگر جرائم لکھا گیا ہے۔


نیشنل پولیس بیورو کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار

نیشنل پولیس بیورو کی شایع کردہ جرائم کے اعداد و شمار کے مطابق، پچھلے سات سالوں میں بلوچستان میں رپورٹ ہونے والے قتل، اغوا برائے تاوان اورڈکیتی کی وارداتوں میں پچاس فیصد سے زیادہ کمی ہوئی ہے۔

ڈیلی ڈان سے وابسطہ صحافی اکبر نوتیزئی کہتے ہیں گزشتہ پانچ سالوں کے مقابلے میں صوبے میں کافی حد تک امن قائم ہوا ہے اسے قبل اگست کے مہینے میں ہر شخص ڈر اور خوف میں مبتلا رہتا تھا کہ کوئی بلاسٹ یا کوئی ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ پیش نہ ا جائے

ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل مسافر خوف اور ڈر کے ساتھ سفر کرتے تھے لیکن اب آپ صوبے بھر میں بلا خوف خطر سفر کر سکتے ہیں ، اب صوبے میں کوئی نو گو ایریا نہیں جبکہ اس سے قبل سفر کرتے ہوئے لوگ خوفزدہ ہوتے تھے تھے اور مسافر دن میں سورج کی روشنی میں سفر کو ترجیح دیتے تھے تھے لیکن اب رات ہو یا دن پورے بلوچستان میں بلا خوف خطر سفر کر سکتے ہیں اکبر نوتیزئی کا کہنا تھا کہ امن وامان کی بہتری سے اب صوبے میں آمد و رفت کا کوئی مسلہ نہیں رہا اب کافی تعداد میں اندرون ملک سے لوگ کویٹہ زیارت اور دیگر علاقوں میں سیر و سیاحت کی غرض کے علاوہ کاروبار کے لیے لوگ آرہے ہیں جس سے نہ صرف ہوٹلنگ ٹرانسپورٹ بلکہ مقامی ابادی کے روزگار میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے

ڈپٹی سپریڈنٹ آف پولیس آصف غفور کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں سٹریٹ کرائم اغوا براے تعاوان اور ٹارگٹ کلنگ سمیت دیگر واقعات میں نمایاں حد تک کمی آئی ہے اور پہلے کی نسبت امن وامان کی صورتحال بھی بہت بہتر ہے ان کا کہنا ہے اس کی بہت سی وجوہات ہیں اب پہلے کی نسبت عوام بھی دہشتگردوں کے ہتھکنڈوں سے کافی حد تک ٓاگاہ ہو چکے جنکہ دوسری بنیادی وجہ پولیس کی نفری اور سہولیات میں اضافہ ہیں محکمہ پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنے سے ہمیشہ مثبت اثرات مرتب ہوے ہیں خصوصا ایگل اسکواڈ، آر آر جی اور تھانوں کی اپنی نفری کی کی پیٹرولنگ سے جرائم کی شرح میں کافی کمی آئی ہے اس کے علاوہ وہ کاؤنٹر ٹیررزم کی دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کاروائیوں سے صوبے میں لسانیات اور مذہبی منافرت پر مبنی گروہوں کا خاتمہ ممکن ہوا ہے جب سے حکومت نے پولیس ،لیویزاور دءگر قانون نافذ کرنے والے اداروں میں رابطے اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کاروائیوں سے دشمنوں کو کافی پسپائی ہوئی ہیں ڈی ایس پی آصف غفور کا کہنا تھا کہ ماضی سے آج پولیس کے پاس نفری جدید آلات گاڑیوں اور دیگر سہولیات میں اضافہ ہوا ہے جس سے امن وامان کی صورتحال میں بہتری ہوئی ہیں

امن و امان کی موجودہ صورتحال کے بارے میں میڈیکل کی فیلڈ سے وابستہ محمد سلمان کا کہنا ہے کہ چند برس قبل تک میں اپنے کاروبار کے لئے اندرون بلوچستان سفر کرتا تھا اے روز ہڑتالوں اور بد امنی بھتہ خوری اور اغوا براے تاوان ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں جیسے واقعات سے میں اور میرے گھر والے کافی پریشان رہتے تھے ہر ایک گھنٹے کے بعد گھر سے فون پر رابط رہتا اسی طرح جب تک بچے اسکول سے واپس نہیں آجاتے گھر میں بے سکونی رہتی تھی اب ماشاءاللہ بہت امن قائم ہوگیا ہے ،اب ہم سب گھر والوں کے ساتھ شام کو پارک میں انجواے کرتے ہیں اور بچے خوب کھیلتے ہیں اب اپ بلوچستان کے کسی بھی پکنک پوائنٹ پربلا خوف وخطر جاسکتے ہیں چند برس قبل تو گھر سے باہر نکلنا محال تھا.

سبی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان عبدالفتاح نے بتایا کہ بلوچستان تعلیم، کاروبار یا کام کے زیادہ مواقع نہ ہونے کی وجہ سے اکثر علاقوں سے بڑی تعداد میں نوجوان کراچی، کوئٹہ یا ملک کے دوسرے شہروں کا رخ کرتے ہیں، لیکن جب حالات ہی خراب ہوں تو ان کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور گھروالوں کو بھی پریشانی رہتے ہے۔ جب آپ اپنے شہر سے دور کسی اور شہر میں کام کرتے ہون اور آپ کے گھر والے ٹی وی پر اس شہر کے بارے میں کوئی بری خبر سنیں تو انہیں فورن اپنے پیاروں کی خیر خبر دریافت کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا جرائم میں کمی شہریوں کے لیے ایک خوش آئندہ بات ہے اور اس سے شہریوں کی زندگی میں بہتری آئے گی۔

One Reply to “بلوچستان میں جرم کے واقعات میں کمی۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *