بلوچستان کی سیاست میں عورتوں کی شمولیت اور ان کے مسائل

خواتین نے دنیا کے ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ جدوجہد کرکے ثابت کیا ہے کہ ان کی شمولیت کے بغیرکوئی بھی معاشرہ ترقی کی راہ پرگامزن نہیں ہوسکتا۔ پاکستان کی سیاست کی تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے تو عورتوں کی شمولیت کوئی نئی بات نہیں، قیام پاکستان سے قبل ہی مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں نے بھہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کردیا تھا، پاکستان کو بنے ستر سال گزرگئے لیکن اب بھی عورتوں کے لیے سیاسی و سماجی برابری ایک بہت بڑا سوال ہے۔ خواتین کیخلاف جرائم میں اضافے،عورت کے حقوق کیلئے قانون سازی پر عملدرآمد کیلئے باقاعدہ نظام موجود نہ ہونے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں خواتین کی تعداد کم ہونے کے باعث عام عورتوں کی انصاف تک رسائی مشکلات کا شکار ہے،

کوئتہ سے تعلق رکھنے والی سیاسی و سماجی ورکر ڈاکٹر ارم ملک نے بتایا کہ” بلوچستان میں خواتین کو تشدد سمیت مختلف سنگین مسائل کا سامنا رہا ہے اور عورتوں کے حقوق کے حوالے سے خاطر خواہ بہتری نہیں آئی، خواتین ارکان قانون سازی میں کوئی نمایاں کردار ادا کرنے کے بجائے زیادہ تر رائے شماری میں تعداد پوری کرنے کی حد تک قانون سازی کے عمل میں شریک ہوتی رہی ہیں۔” انہوں نے مزید بتایا کہ “یہان پر آپ کوبہترین لیڈی ڈاکٹر‘ بہترین خاتون وکیل‘ بہترین خاتون آرٹسٹ، اعلیٰ پائے کی گلوکارہ اور کامیاب ترین خاتون پروفیشنلز کئی مل جائیں گی جن کا تعلق مختلف قبیلوں‘ مختلف برادریوں اور خاندانوں سے ہو گا جو اس معاشرے میں عزت کی نگاہ سے بھی دیکھی جاتی ہین، لیکن جب ہم سیاست کی بات کرتے ہیں تو ہمارے ذہنوں میں چند مخصوص گھرانوں کی خواتین کے نام ہی زیر گردش رہتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ “گھریلو تشدد، وراثت، غیرت کے نام پر قتل ، کم عمری کی شادیاں ، ان سب امور سے متعلق قانون سازی کی گئی ہے، مگر ابھی تک عام عورت کیخلاف جرائم، تشدد، ہراسمنٹ کی روک تھام اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے ہونے والی قانون سازی پرعملدرآمد میں بہتری نہیں آسکی۔

بلوچستان میں عورتوں کے حقوق پر کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کی رکن رفعت پرویز نے کہا کہ” قیام پاکستان کے وقت ہی سے سیاسی پارٹیوں اور قانون ساز اداروں میں خواتین کی معمولی نمائندگی اور عدم شرکت کی وجہ سے انکے لئے مخصوص نشستوں کا نظام رائج رہا۔ پاکستان کے 1962 -1956ء اور 1973ء کے آئین میں ملک کی خواتین کیلئے مخصوص نشستیں رکھی جاتی رہیں مگر یہ صرف آٹے میں نمک کے برابر تھیں

انہوں نے مزید کہا “بلوچستان کی سیاست میں عورتوں کی شمولیت اب بھی ایک بڑا سوال ہے، ہمیں عورتوں کے بہتر مستقبل اور معاشرے کی بہتری کے لیے ملکی اور لوکل سطح پر سیاست میں عورتوں کو برابری کا درجہ دینا چاہیے، اور ہماری خواتین اپنی خانگی ذمہ داریوں کے تقاضے پورے کرنے کے بعد وہ نہ صرف معاشی بلکہ سیاسی جدوجہد میں بھی اپنے حالات، ذوق اور رجحان کے مطابق حصہ لے سکتی ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر ہمارے ملک کا نام روشن ہوگا۔

بلوچستان اسمبلی کی سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر رقیا ہاشمی نے بتایا کہ: بلوچستان میں خواتین کے حقوق کے لیے کی جانے والی قانون سازی ہمیشہ سے ایک مشکل مرحلہ رہی ہے اور اس کی سب سے بنیادی وجہ صوبہ کی سیاست میں عورتوں کی کم شمولیت رہی ہے۔  عورتوں کے لیے مخصوص نشستوں میں اضافے کے باوجود عورتوں کی سیاسی حیثیت میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آ سکی۔ روایتی طور پر قانون ساز اسمبلیوں اور شعبۂ قانون پر مردوں کی اجارہ داری رہی ہے، لیکن عورتوں کی مسلسل جدوجہد اور مشکل حالات میں بھی سیاسی عمل میں شرکت نے مردوں کے رویہ میں اس قدر تبدیلی لائی ہے ہے کہ ماضی کے مقابلے میں خواتین کی آواز قدرے سنجیدگی سے سنی جانے لگی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ، ملک کی سیاست میں عورتوں کی حقیقی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے ہمیں ملک کر کام کرنا پڑے گا، اور اس میں ملک کی چھوٹی بڑی سیاسی پارٹیاں بہت اہم کردار ہے۔ عورت کو حقوق اس وقت تک نہیں ملیں گے جب تک وہ شعور کی آنکھ کھول کر کسی اجتماعیت کے پلیٹ فارم سے عملی جدوجہد نہیں کریگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ، “صوبہ بلوچستان میں خواتین ووٹرز کی تعداد اٹھارہ لاکھ تیرہ ہزار کے قریب ہے لیکن صوبے کے بیشتر اضلاع میں کہیں روایات تو کہیں مذہب کے نام پر انکے ووٹ ڈالنے کی شرح نہ ہونے کے برابر تھی” انہوں نے مزید کہا کہ ” قانون سازی کے ساتھ ساتھ عورتوں کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں بھی خواتین آفیسرز کی تعدادمیں اضافہ بہت ضروری ہے۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *